ملتان (وقائع نگار)نشتر ہسپتال ملتان کا شوگر (اینڈو کرائن) یونٹ برسوں بعد بھی غیر فعال، مریض پریشان نشتر ہسپتال ملتان کا شوگر اور ہارمون کے امراض کا علاج کرنے والا اینڈو کرائن یونٹ، جسے تقریباً دس سال قبل وارڈ نمبر 10 کے بیسمنٹ میں لاکھوں روپے کی لاگت سے قائم کیا گیا تھا، آج تک مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکا۔ اس یونٹ کی غیرفعالیتی کے باعث ذیابیطس کے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ذرائع کے مطابق اگرچہ اس شعبے کے لیے 15 بستر منظور شدہ ہیں، لیکن یہ سہولت صرف کاغذوں تک محدود ہے۔ حقیقت میں مریضوں کو وارڈ نمبر 11 میں داخل کیا جا رہا ہے، جبکہ اینڈو کرائن یونٹ کے لیے کوئی علیحدہ عملہ بھی فراہم نہیں کیا گیا۔ کورونا وبا کے دوران اس شعبے کے بستر واپس لے لیے گئے تھے جو اب تک بحال نہیں ہو سکے۔دس سال قبل اس جدید یونٹ کے قیام کے لیے لاکھوں روپے خرچ کیے گئے تھے، تاہم انتظامی امور اور فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث یہ منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا۔ 2022 تک ایک نجی فلاحی ادارہ اس یونٹ کو مالی امداد فراہم کر رہا تھا، لیکن معاہدہ ختم ہونے کے بعد یہ سلسلہ بند ہو گیا۔ مارچ 2024 میں ملتان کی ایک معروف شخصیت نے ایک ملین روپے دینے کا وعدہ کیا، جن میں سے ایک لاکھ عملہ کی تنخواہوں اور نو لاکھ انسولین و ادویات کے لیے مختص تھے، مگر یہ رقم بھی شعبے تک نہ پہنچ سکی۔ماہرینِ اینڈو کرائن کا کہنا ہے کہ منظوری شدہ 15 بسترز کو فعال کیا جائے اور عملہ تعینات کیا جائے، مگر بارہا درخواستوں اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو خطوط ارسال کرنے کے باوجود کوئی اقدام عمل میں نہیں لایا گیا۔ اس صورتحال کے باعث روزانہ اس شعبے میں آنے والے مریضوں کی تعداد میں نمایاں کمی آ گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسی کے تحت نجی کمپنیوں یا افراد کو سرکاری ہسپتالوں کے معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں، جس وجہ سے یہ یونٹ تعطل کا شکار ہے۔ واضح رہے کہ پنجاب کے جنوبی علاقے کے سب سے بڑے طبی مرکز نشتر ہسپتال میں جدید آلات اور مشینری نصب تو کر دی جاتی ہیں، مگر ان کے اجراء اور دیکھ بھال کے لیے کوئی موثر حکمت عملی موجود نہیں، جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ذیابیطس کے مریض اس غیرفعال یونٹ کے باعث طبی سہولیات سے محروم ہیں اور انہیں دیگر شعبوں میں علاج کے لیے بھٹکنا پڑ رہا ہے۔







