ملتان (سٹاف رپورٹر) جنوبی پنجاب کی سرکاری جامعات میں خزانچی (Treasurer) کے عہدے کے اضافی چارج سے متعلق تنازعہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز بہاولپور کی جانب سے خزانچی کے دفتر سے متعلق جاری کیے گئے متنازع نوٹیفکیشن پر روزنامہ قوم کی ریسرچ ایجوکیشن ٹیم کی جانب سے سوالات اٹھانے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے فوری طور پر اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہوئے نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ تاہم ناقدین کے مطابق نوٹیفکیشن میں تبدیلی سے معاملہ حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ اور مشکوک ہو گیا ہے۔ ابتدائی نوٹیفکیشن میں پروفیسر ڈاکٹر ریاض حسین کو ایک سال کے لیے خزانچی کے دفتر کا اضافی چارج سونپنے کا اعلان کیا گیا تھا، جس پر روزنامہ قوم کی ایجوکیشن ریسرچ سیل کی ٹیم نے شدید اعتراضات اٹھائے تھے کیونکہ CUVAS ایکٹ 2018 کے تحت خزانچی ایک کل وقتی قانونی افسر ہے جس کی تقرری کا اختیار چانسلر و گورنر پنجاب کو حاصل ہے۔ روزنامہ قوم میں خبر سامنے آنے کے بعد یونیورسٹی نے خاموشی سے نیا نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں ایک سال کی مدت کی شرط ختم کر دی گئی، تاہم اس کے ساتھ یہ نئی عبارت شامل کر دی گئی کہ “پروفیسر ڈاکٹر ریاض حسین وائس چانسلر کو خزانچی کے دفتر کے معاملات چلانے میں معاونت فراہم کریں گے۔” یہاں ایک بنیادی اور نہایت اہم سوال جنم لیتا ہے کہ اگر پروفیسر ڈاکٹر ریاض حسین صرف وائس چانسلر کی “مدد” کریں گے تو پھر یونیورسٹی کا چیف فنانشل آفیسر کون ہوگا؟ مالیاتی اختیارات، ادائیگیوں کی منظوری، آڈٹ اعتراضات کے جوابات، بجٹ پر عملدرآمد اور دیگر قانونی ذمہ داریاں آخر کس افسر کے پاس ہوں گی؟ کیا ایک قانونی عہدہ محض “معاونت” کے ذریعے چلایا جا سکتا ہے یا اس کے لیے باقاعدہ طور پر مجاز افسر کی تعیناتی ناگزیر ہے؟ ترلیمی و قانونی ماہرین کے مطابق نیا نوٹیفکیشن دراصل پہلے نوٹیفکیشن میں موجود قانونی کمزوریوں کو چھپانے کی کوشش معلوم ہوتا ہے۔ اگر خزانچی کی مستقل یا عارضی ذمہ داریاں کسی افسر کو سونپنا ضروری تھا تو پھر معاملہ گورنر پنجاب و چانسلر کو کیوں نہیں بھیجا گیا؟ کیا یونیورسٹی انتظامیہ نے چانسلر سیکرٹریٹ سے پیشگی منظوری حاصل کی؟ اگر نہیں تو پھر یہ اختیار کس بنیاد پر استعمال کیا گیا؟ مزید حیران کن امر یہ ہے کہ نئے نوٹیفکیشن میں یہ بھی درج کیا گیا ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر ریاض حسین “گورنر کی جانب سے باقاعدہ تقرری تک” وائس چانسلر کی معاونت کریں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ جملہ خود اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ خزانچی کی اصل تقرری کا اختیار گورنر پنجاب و چانسلر کے پاس ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب خود یونیورسٹی اس اختیار کو چانسلر کا تسلیم کر رہی ہے تو عبوری انتظام بھی چانسلر کی منظوری سے کیوں نہیں کیا گیا؟ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ نوٹیفکیشن میں بار بار تبدیلیاں اور متضاد تشریحات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یونیورسٹی انتظامیہ قانونی پوزیشن کے حوالے سے خود بھی غیر یقینی کیفیت کا شکار ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق اگر کسی قانونی عہدے کو سنبھالنے والے افسر کا تعین ہی واضح نہ ہو تو اس دوران کیے جانے والے مالیاتی فیصلوں اور انتظامی اقدامات کی قانونی حیثیت بھی سوالیہ نشان بن سکتی ہے۔ یہ معاملہ اب محض ایک نوٹیفکیشن یا الفاظ کی تبدیلی تک محدود نہیں رہا بلکہ یونیورسٹی گورننس، مالیاتی نظم و نسق اور قانونی اختیارات کے استعمال کا ایک اہم امتحان بن چکا ہے۔ تعلیمی و قانونی حلقوں نے گورنر پنجاب، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کی وضاحت کریں اور یہ واضح کریں کہ چولستان یونیورسٹی میں اس وقت خزانچی کے عہدے کی قانونی ذمہ داری آخر کس افسر کے پاس ہے، کیونکہ “مدد” اور “معاونت” کے الفاظ کسی قانونی عہدے کا متبادل نہیں ہو سکتے۔







