ملتان (سٹاف رپورٹر) محکمہ خوراک خانیوال کے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر نے پیرا فورس پولیس اور دیگر عملے کی مدد سے سابق ایس ای واپڈا طالب خان دھرالہ کے ضلع خانیوال میں واقع گودام میں دو مختلف فلور ملز کی فروخت شدہ 13 ہزار من گندم میں سے ایک ہزار من گندم یعنی تقریباً ساڑھے سات فیصد زبردستی اٹھانے کی کوشش میں سرکاری اختیارات کے نجی کمپنی کے لیے ناجائز استعمال کی انتہا کر دی۔ بتایا گیا ہے کہ طالب خان دھرالہ جو کہ ضلع خانیوال کے ایک بڑے زمیندار ہیں، نے 13 ہزار من گندم دو ماہ قبل 3800 روپے فی من کے حساب سے مختلف فلور ملوں کو فروخت کر دی مگر جگہ نہ ہونے کی وجہ سے اس خطے میں رواج ہے کہ فلور ملز مالکان پیسے دے کر گندم کی خریداری کر لیتے ہیں اور بعد میں اسے اپنے گودام خالی ہونے پر اٹھا لیتے ہیں کیونکہ ان کے پاس اپنے گوداموں میں بعض اوقات جگہ کم ہوتی ہے۔ دو ماہ قبل ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر خانیوال نے پیرا فورس کے ہمراہ اس اراضی پر موجود گودام پر چھاپہ مارا اور فروخت کی رسیدوں کے باوجود گودام کو سیل کر دیا۔ اس گودام میں مذکورہ زمیندار طالب خان دھرالہ کا ٹریکٹر کپاس کا بیج اور دیگر ذرعی الات بھی سیل کر دیے جس پر مذکورہ زمیندار نے تحریری طور پر ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر خانیوال کو اپیل کی کہ انہیں اپنا سامان نکالنے دیا جائے تاکہ وہ اگلی فصل کی کاشت کر سکیں مگر ان کی ایک نہ سنی گئی اور چند دن بعد ایک غیر متعلقہ شخص نے مذکورہ زمیندار سے رابطہ کرکے انہیں کہا کہ اگر وہ پانچ لاکھ روپے کا انتظام کر دیں تو کوئی نہ کوئی راستہ نکل آئے گا اور یہ سیل کوشش کرکے ختم ہو جائے گی مگر طالب دھرالہ بضد رہے کہ انہوں نے یہ گندم فروخت کر دی ہے اور پیسے لے لیے ہیں وہ کیسے اب ڈیل سے مکر سکتے ہیں۔ چند دن بعد ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر پیرا فورس کے ہمراہ ایک ٹرالر لے کر آ گئے اور اس پر ایک ہزار من گندم گودام کی سیلیں کھول کر لوڈ کر لی اور مذکورہ زمیندار کے سامنے ایک ایگریمنٹ رکھا جس پر لکھا ہوا تھا کہ وہ اپنی خوشی سے یہ گندم ایل ڈی سی نامی پرائیویٹ کمپنی کو 35 سو روپے فی من کے حساب سے فروخت کر رہے ہیں۔ مقامی زمیندار طالب خان دھرالہ جو کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ریٹائرڈ سرکاری افیسر ہیں، نے موقف اختیار کیا کہ ایک سرکاری افیسر نجی کمپنی کے لیے کیسے گندم خرید سکتا ہے اور پرائیویٹ کمپنی کی گارنٹی مجھے کون دے گا کہ مجھے اس گندم کے عوض 35 لاکھ روپے کی رقم دے گی۔ آپ ڈرافٹ لے آئیں جب کیش ہو جائے گا تو میں گندم یہاں سے روانہ کر دوں گا۔ ورنہ گندم نہیں ملے گی چاہے کچھ بھی ہو جائے یا پھر ایل ڈی سی کمپنی کے مالکان خود آئیں کیونکہ میں کسی ذمہ دار کے حوالے تو گندم کر سکتا ہوں۔ ایک سرکاری آفیسر کے حوالے کسی نجی کمپنی کے لیے گندم نہیں کر سکتا جس پر ڈسٹرکٹ فور کنٹرولر نے کہا کہ میں آپ کے خلاف قانونی کاروائی کروں گا اور ذخیرہ اندوزی کا مقدمہ درج کروا کر پولیس کاروائی کرواؤں گا۔ ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر خانیوال کی اس دھمکی پر ماحول تلخ ہو گیا اور طالب خان دھرالہ نے کہا کہ آپ کیسے گارنٹی دیتے ہیں کہ ایک نجی کمپنی مجھے گندم اٹھانے کے بعد 3500 روپے فی من کے حساب سے ادائیگی کر دے گی اور آپ کس قانون اور اختیار کے تحت مجھ سے زبردستی فروخت کے اسٹام پر دستخط کروا سکتے ہیں۔ میں نے بھی ساری زندگی سرکاری ملازمت کی ہے میرا تو پہلی مرتبہ اس قسم کی غیر قانونی صورتحال سے واسطہ پڑ رہا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ ایک سرکاری افسر غیر قانونی کام کیسے کر سکتا ہے۔







