ملتان (سٹاف رپورٹر) بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں دھمکیوں اور غیر قانونی ترقیوں کا ڈرامہ، رجسٹرار اعجاز احمد کے بھائی کا اپنے دوستوں کے ہمراہ ایڈیشنل رجسٹرار پر دھاوا بول دیا بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں انتظامی سطح پر ایک سنگین تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ رجسٹرار اعجاز احمد کے بھائی اور ان کے حامیوں نے ایڈیشنل رجسٹرار کامران تصدق کے دفتر پر دھاوا بول دیا، انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں اور کہا کہ “ہماری ترقی میں رکاوٹ ڈال رہے ہو ہم تمہارا جینا دو بھر کر دیں گے۔ ذرائع کے مطابق رجسٹرار اعجاز احمد کے بھائی ڈپٹی خزانہ دار اختر رسول، رجسٹرار کے سیکرٹری گل محمد شاہ، ڈپٹی رجسٹرار ایڈمن محمد عارف اور فیصل اکرم نے کامران تصدق کے آفس میں دھاوا بول دیا۔ انہوں نے کامران تصدق پر الزام لگایا کہ وہ ان کی 17ویں سے 18ویں سکیل میں ترقی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ دھمکی آمیز رویے کے دوران ماحول انتہائی تناؤ کا شکار رہا۔اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ رجسٹرار اعجاز احمد، جو سنیارٹی میں کامران تصدق سے جونیئر ہیں، نے انہیں ایک خط لکھ کر صاف دھمکی دی کہ “اگر میرے بھائی اور اس کے دوستوں کی ترقی میں رکاوٹ ڈالی تو تمہاری اے سی آر (Annual Confidential Report) خراب کر دوں گا۔ رجسٹرار اعجاز احمد نے اپنے بھائی اختر رسول اور ان کے قریبی دوستوں فیصل اکرم، طارق محمود، ذوالفقار علی، محمد عارف اور گل محمد شاہ کو غیر قانونی طور پر BPS-17 سے BPS-18 میں ترقی دینے کی کوشش کی۔ یہ تمام اقدامات نہ صرف یونیورسٹی کے متعلقہ قوانین بلکہ سپریم کورٹ کے واضح فیصلوں کے برعکس بتائے جا رہے ہیں۔یونیورسٹی کے کم تجربے والے وائس چانسلر پروفیسر زبیر اقبال غوری اس پورے معاملے میں رجسٹرار اعجاز احمد کے اثر و رسوخ کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ انہوں نے ان متنازعہ ترقیوں کی منظوری دے دی، جبکہ اس حوالے سے کوئی واضح انکوائری کرانے کا حکم اب تک جاری نہیں کیا گیا۔یونیورسٹی کے ریذیڈنٹ آڈیٹر ظفر بلوچ نے غیر معمولی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان ترقیوں کو غیر قانونی قرار دیا اور متعلقہ افسران کی پے فکسیشن سے انکار کر دیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ “قانون کے مطابق یہ ترقیاں ممکن نہیں”۔اس پر رجسٹرار اور ان کے حامیوں نے ظفر بلوچ پر سیاسی دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ انہیں یہ بھی دھمکی دی جا رہی ہے کہ اگست میں ان کا ٹینور ختم ہو رہا ہے اور اس میں توسیع نہیں دی جائے گی ایڈیشنل رجسٹرار کامران تصدق سے رابطہ کیا تو انہوں نے ان دھمکیوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس پورے واقعے سے وائس چانسلر کو آگاہ کیا تھا۔ وائس چانسلر نے انکوائری کرانے کی یقین دہانی کرائی تھی، مگر اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔یونیورسٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ رجسٹرار اعجاز احمد کا گروپ انتظامیہ پر مکمل طور پر حاوی ہے اور جو بھی ان کی مرضی کے خلاف جاتا ہے، اسے دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یہ واقعہ یونیورسٹی کی انتظامیہ میں بدعنوانی، اقربا پروری اور دھونس کی نئی مثال بن گیا ۔ اساتذہ اور سٹاف میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے کہ اگر اس معاملے کی فوری انکوائری نہ کی گئی تو یونیورسٹی کا ماحول مزید خراب ہو سکتا ہے۔







