قاہرہ: امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے بعد طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر غور کے لیے پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ آج قاہرہ میں اہم اجلاس میں شریک ہوں گے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے پر دستخط اتوار کے روز سوئٹزرلینڈ کے ایک سیاحتی مقام پر ہونا تھے، تاہم اس سے قبل ہی فریقین نے مختلف مراحل پر اپنے اپنے ممالک میں دستخط مکمل کر دیے، جس کے باعث سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی رسمی تقریب کو مؤخر کر دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق اس عمل کے دوران تکنیکی ٹیموں کی ملاقاتیں بھی شیڈول تھیں، تاہم ان کے وقت کا حتمی تعین ابھی تک نہیں ہو سکا۔ دوسری جانب امریکی صدر کے قریبی مشیر جیرڈ کشنر پہلے سے سوئٹزرلینڈ میں موجود ہیں، جبکہ امریکا کے خصوصی ایلچی بھی مذاکراتی عمل کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی جلد سوئٹزرلینڈ پہنچنے کا امکان ہے، جہاں وہ امریکی حکام کے ساتھ مزید مذاکرات میں حصہ لیں گے۔
اس سے قبل قاہرہ میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ خطے میں امن، سلامتی، استحکام اور امریکا ایران مفاہمتی عمل پر تبادلہ خیال کریں گے۔
میزبان ملک مصر کی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی جائے گی جس میں تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔







