مخدوم رشید (نمائندہ خصوصی)ڈیجیٹل ترقی کے ساتھ پروان چڑھنے والا آن لائن جوئے کا خطرناک کاروبار اب خاموشی سے معاشرے کی بنیادیں کھوکھلی کرنے لگا ہے۔ موبائل فون کی ایک سکرین نے اس ناسور کو ہر گھر، ہر گلی اور ہر نوجوان کی جیب تک پہنچا دیا ہے، جہاں آسان دولت کےلالچ میں پھنسنے والے ہزاروں نوجوان اپنی محنت، تعلیم، کردار اور روشن مستقبل کو ایک کلک پر داؤ پر لگا رہے ہیں۔ یہ رجحان محض ایک غیر قانونی کھیل نہیں بلکہ نوجوان نسل کو معاشی، اخلاقی اور نفسیاتی تباہی کی جانب دھکیلنے والا سنگین سماجی بحران بنتا جا رہا ہے۔آن لائن جوئے کی ویب سائٹس اور موبائل ایپس راتوں رات کروڑ پتی بننے، لگژری گاڑیاں خریدنے اور پرتعیش زندگی کے دلکش خواب دکھا کر نوجوانوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہیں۔ ابتدا میں معمولی کامیابی کا جھانسہ دے کر صارفین کو مسلسل سرمایہ لگانے پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہی جھوٹا سراب انہیں قرض، مالی بربادی، ذہنی دباؤ اور شدید مایوسی کی اندھی کھائی میں دھکیل دیتا ہے۔سماجی ماہرین کے مطابق آن لائن جوئے کی لت نوجوانوں کی شخصیت، تعلیم، روزگار اور خاندانی نظام کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ بے شمار نوجوان اپنی جمع پونجی گنوا بیٹھتے ہیں، جبکہ بعض قرض لے کر یا گھریلو اخراجات کی رقم تک اس لعنت کی نذر کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً احساسِ محرومی، شرمندگی، ڈپریشن اور مایوسی ان کی زندگی پر حاوی ہو جاتی ہے۔ذرائع کے مطابق متعدد خاندان آن لائن جوئے کے باعث شدید مالی بحران، گھریلو جھگڑوں، طلاقوں اور خاندانی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر آن لائن جوئے کی ایپس اور ویب سائٹس کی تشہیر بلا روک ٹوک جاری ہے، جہاں نوجوانوں کو آسان کمائی کے دلکش مگر جھوٹے خواب دکھائے جاتے ہیں۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق طلبہ کی بڑی تعداد اپنی توانائیاں تعلیم، تحقیق اور مثبت سرگرمیوں کے بجائے موبائل سکرین پر قسمت آزمانے میں ضائع کر رہی ہے۔سائبر ماہرین کا کہنا ہے کہ آن لائن جوئے کے متعدد پلیٹ فارمز بیرون ملک سے آپریٹ ہوتے ہیں، جس کے باعث صارفین کی بینکنگ معلومات، ذاتی ڈیٹا اور مالی اثاثے بھی خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔ متعدد افراد فراڈ اور دھوکہ دہی کے ذریعے اپنی جمع پونجی سے محروم ہو چکے ہیں۔ شہریوں، والدین، اساتذہ اور سماجی تنظیموں نے حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ آن لائن جوئے کے خلاف بلاامتیاز اور مؤثر کریک ڈاؤن کیا جائے، غیر قانونی ویب سائٹس اور ایپس کو فوری طور پر بلاک کیا جائے، سوشل میڈیا پر ان کی تشہیر کا راستہ روکا جائے۔







