تہران: امریکی فوج نے ایران کے خلاف ایک بار پھر فضائی کارروائیوں کے آغاز کی تصدیق کر دی ہے، جس کے بعد تہران اور دیگر شہروں میں دھماکوں اور سیکیورٹی صورتحال کشیدہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق دارالحکومت تہران کے مختلف علاقوں سمیت جنوبی شہر بندرعباس میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جس کے بعد سیکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق سیریک اور میناب کے علاقوں میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دی گئی ہیں، تاہم فی الحال ان کی نوعیت واضح نہیں ہو سکی۔ ایرانی ذرائع کے مطابق مغربی تہران میں فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کی گئی ہیں، جو ان کے مطابق ایران کی مسلسل اشتعال انگیزیوں کے ردعمل میں ہیں۔
امریکی مؤقف کے مطابق یہ حملے دفاعی نوعیت کے ہیں اور ایران کی جانب سے بڑھتے ہوئے اقدامات کے جواب میں کیے جا رہے ہیں۔
اس سے قبل سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کو پہلے بھی نشانہ بنایا گیا ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید کارروائیوں کا امکان موجود ہے۔
U.S. Central Command forces began launching additional self-defense strikes today at 5:15 p.m. ET against multiple targets in Iran at the Commander in Chief’s direction. The strikes are in response to Iran’s unwarranted and continued aggression.
— U.S. Central Command (@CENTCOM) June 10, 2026







