پنجاب حکومت کا 500 ارب ریونیو ہدف؛ 12 اداروں سے سرکاری جائیدادوں کا ریکارڈ طلب-پنجاب حکومت کا 500 ارب ریونیو ہدف؛ 12 اداروں سے سرکاری جائیدادوں کا ریکارڈ طلب-عمران خان اور شہباز شریف ہتکِ عزت کیس؛ سپریم کورٹ نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے حقِ دفاع بحال کر دیا-عمران خان اور شہباز شریف ہتکِ عزت کیس؛ سپریم کورٹ نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے حقِ دفاع بحال کر دیا-امریکی میڈیا کا دعویٰ؛ ڈیل میں تاخیر پر ٹرمپ نے ایران پر نئے حملوں کا حکم دیا-امریکی میڈیا کا دعویٰ؛ ڈیل میں تاخیر پر ٹرمپ نے ایران پر نئے حملوں کا حکم دیا-ایران کا دعویٰ؛ امریکی حملوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا-ایران کا دعویٰ؛ امریکی حملوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا-ایران پر امریکی فضائی کارروائیاں دوبارہ شروع؛ تہران اور بندرعباس میں دھماکوں کی اطلاعات-ایران پر امریکی فضائی کارروائیاں دوبارہ شروع؛ تہران اور بندرعباس میں دھماکوں کی اطلاعات

تازہ ترین

ایران کا دعویٰ؛ امریکی حملوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا

تہران: ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں کے ردعمل میں اس نے خلیجی خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر جوابی کارروائیاں کی ہیں۔
ایرانی خبر رساں اداروں مہر اور فارس کے مطابق ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب نے ڈرون اور میزائل حملوں کے ذریعے بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے بعض اہم فوجی اور مواصلاتی اہداف کو نشانہ بنایا۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ حملوں کے دوران کمیونیکیشن اینٹینا اور پیٹریاٹ دفاعی نظام کے ریڈار مراکز کو ہدف بنایا گیا۔
دوسری جانب بحرین کی وزارت داخلہ نے فضائی حملے کے خدشے کے پیش نظر الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں اور غیر ملکی باشندوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق کویت اور بحرین میں موجود امریکی اڈوں پر بھی کارروائیاں کی گئی ہیں، اور مختلف آپریشنز کے دوران متعدد اہم اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ایرانی سرکاری خبر ایجنسی ارنا کے مطابق کویت میں علی السالم اور احمد الجابر ایئر بیسز جبکہ بحرین میں شیخ عیسیٰ ایئر بیس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
تاہم امریکی حکام، بحرین اور کویت کی حکومتوں کی جانب سے ان دعوؤں کی فوری طور پر تصدیق یا نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سیکیورٹی صورتحال مزید سخت ہو گئی ہے اور عالمی سطح پر صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں