ملتان( سٹاف رپورٹر) بوسن روڈ پر بُچ ولاز سے ملحقہ موضع خسرو آباد کی آٹھ کروڑ روپے مالیت کی 8 سال قبل خریدی گئی سات کنال 10 مرلے کمرشل اراضی ملتان کے بدنام جعل ساز گروہ نے جعلی اسٹام پیپر تیار کرکے اس کی بنیاد پر جعلی رجسٹری نمبر 20866 مورخہ 27 دسمبر 2017 کو تیار شدہ ظاہر کرکے عدالت سے یک طرفہ ڈگری کے ذریعے فیصل ہرل، اویس ہرل اور سہیل ہرل نے عمران نامی عرضی نویس کی ملی بھگت سے غلط ایڈریس ظاہر کر کے جعل سازی سے ملکیت حاصل کر لی۔ پولیس تھانہ چہلیک نے مقدمہ نمبر 413 برائے سال 2026 ای ٹیگ نمبر 1037 کے تحت مورخہ 20 مئی 2026 کو درج کرکے جعل سازوں کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔ اس مقدمے کے مدعی سلمان خاکوانی ہیں جن کے والد نے 2018 میں مذکورہ سات کنال 10 مرلے کمرشل اراضی ملحقہ خسرو آباد ایک شخص فیاض سے خریدی اور مختار خاص حاصل کر لیا۔ عمران نامی اسٹام فروش نے ہرل برادران کی ملی بھگت سے اس اراضی کا جعلی اسٹامپ پیپر نمبر 620 مورخہ 17 جولائی 2013 کا تیار کیا اور پھر غلط ایڈریس دے کر عدالت سے یک طرفہ ڈگری حاصل کر لی اور اس ڈگری کے تحت جعلی رجسٹری نمبر 20866 مورخہ 27 دسمبر 2017 کو حاصل کر لی۔ اس یک طرفہ ڈگری کو اپیل میں جعل سازی ثابت ہو جانے کی بنیاد پر 24 نومبر 2025 کو عدالت نے خارج کر دیا جس پر تھانہ چہلیک نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا تاہم کسی ملزم کی گرفتاری ابھی تک عمل میں نہیں آئی۔ بتایا گیا ہے کہ فیصل ولد خدا بخش قوم ہرل نامی یہ جعل ساز آئی ٹی لینڈ کے نام سے پراپرٹی کا بزنس کرتا ہے۔ اس نے ضلع کچہری کے نچلے درجے کے ملازمین اور عمران نامی اسٹام فروش کی ملی بھگت سے ایک گروہ بنا رکھا ہے جو مختلف لوگوں کی پراپرٹیز کے جعلی کاغذات تیار کرکے ان پراپرٹیز کو فروخت کر دیتا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج رانا عبدالحکیم کی عدالت میں 10 جون 2026 کو پولیس نے رپورٹ پیش کی ہے کہ اسٹامپ فروش عمران تفتیش میں شامل نہیں ہو رہا۔







