رحیم یارخان(بیورو رپورٹ)نہری پانی چوری اسکینڈل،نہری پانی کی مبینہ چوری، موگوں کے سائز میں ردوبدل، بااثر افراد کو فائدہ پہنچانے اور محکمہ انہار میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق ’’قوم‘‘ میںخبروں کی اشاعت کے بعد معاملہ مزید سنگین رخ اختیارکرگیا،ایکسین،ایس ڈی او اور سب انجینئروں نے اپنی کرپشن کو چھپانے کیلئے کوٹ سمابہ رحیم یارخان برانچ سمیت درجنوں ڈسٹی مائنروں،سرکاری کھالہ جات کا پانی بند کردیا،ٹیل کے کاشتکاروں اور چھوٹے زمینداروں نے الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ محکمہ انہار کے افسران و اہلکاران کی کرپشن عیاں ہونے پر ایس ای انہار سمیت اعلیٰ حکام حقائق کو چھپانے اور تحقیقات کا رخ موڑنے کی کوششوں میں مصروف ہیں،ایس ای انہار چوہدری خالد محمود نے پر اسرار خاموشی اختیار کرلی،سب انجینئرز کی صوبائی وزیر آبپاشی اور سیکرٹری آبپاشی تک کی پہنچ کی بھڑکیں۔تفصیل کے مطابق محکمہ انہار کے ایکسین،ایس ڈی او اور سب انجینئرزنے ٹیل کے کاشتکاروں اور چھوٹے زمینداروں کی زرخیز زمینوں کو بانجھ کرنے کی ٹھان لی،ٹیل کے کاشتکاروں اور کوٹ سمابہ رحیم یارخان برانچ،دیگی مائنر ،کنڈیر مائنر،رکن مائنر،ڈالس برانچ،پنجند کینال،احمد واہ مائنر سمیت دیگر چھوٹی بڑی نہروں کے چھوٹے کاشتکاروں اور ٹیل کے زمینداروں نے محکمہ انہار کے ایکسین محسن،ایس ڈی او زمران ،سب انجینئرز نعمان ،طاہر رانجھا،جہانزیب خان،جان محمد،محمد حمید،جام افضل،طاہر مقصود،نعمان طاہر،کامران بٹ،فاروق اعوان ،چوہدری ذوالفقار ،حمزہ حسین پر مذکورہ نہروں کے 12 موگے فی کس 10 لاکھ روپے کے حساب سے 1 کروڑ 20 لاکھ روپے میں فروخت کرنے کا الزام عائد کرنے کے ساتھ ساتھ نہروں میں ٹیوبیں لگوا کر نہری پانی 5 ہزار روپے فی گھنٹہ فروخت کرنے اور تقریباًروزانہ کی بنیاد پر 1 لاکھ 20 ہزار روپے کی دیہاڑیاں لگانے کا الزام عائد کیا تھا۔کاشتکاروں کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف،صوبائی وزیر آبپاشی کاظم علی پیرزادہ،سیکرٹری آبپاشی،کمشنر بہاولپور،ڈپٹی کمشنر رحیم یارخان،ایس ای انہار رحیم یارخان کو درخواستیں اور شکایات درج کروائیں جس کی رنجش پر محکمہ انہار کے ایکسین محسن،ایس ڈی او زمران اور سب انجینئرز نعمان ،طاہر رانجھا،جہانزیب خان،جان محمد،محمد حمید،جام افضل،طاہر مقصود،نعمان طاہر،کامران بٹ،فاروق اعوان ،چوہدری ذوالفقار ،حمزہ حسین نے متذکرہ نہروں ،ڈسٹی مائنروں اور سرکاری کھالہ جات کا پانی بند کردیا جس کی وجہ سے کاشتکاروں کی کماد،سبزیوں،چارہ جات کی فصلیں جلنا اور سڑنا شروع ہو چکی ہیں،ٹیل کے زمینداروں اور چھوٹے کاشتکاروں محمد نواز،علی حسن،محمد حسین،جام کاشف،حمزہ سلیم،محمد وسیم،نعمان اکرم،چوہدری فتح محمد،چوہدری ظہور،حاجی اقبال ،میاں سولنگی،حاجی شاہ محمد،چوہدری دلدار حسین کے مطابق متعدد مائنرز میں پانی کی فراہمی متاثر یا بند ہونے کے واقعات سامنے آئے ہیں، کسانوں کا الزام ہے کہ اس اقدام کا مقصد مبینہ بے ضابطگیوں کے نشانات مٹانا اور عوامی دباؤ کم کرنا ہے، ان کا کہنا ہے کہ پانی کی بندش سے سب سے زیادہ نقصان چھوٹے کاشتکاروں اور ٹیل کے علاقوں کو پہنچ رہا ہے جہاں پہلے ہی پانی کی شدید قلت پائی جاتی ہے،انہوں نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ محکمہ انہار کے کرپٹ ترین ایکسین،ایس ڈی او اور سب انجینئرز کی جانب سے کسانوں کو مختلف طریقوں سے دباؤ میں لانے اور خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، متاثرین کے مطابق چند افراد کو متعلقہ افسران کے سامنے پیش کرکے مخصوص نوعیت کے بیانات دلوانے کی مبینہ کوششیں بھی کی گئیں تاکہ جاری تنازع میں بعض اہلکاروں کے مؤقف کو تقویت دی جا سکے، ان کے پاس متعدد دستاویزی شواہد، درخواستیں، ریکارڈ اور دیگر مواد موجود ہے جن کی آزادانہ جانچ سے حقائق سامنے آسکتے ہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر کسی فریق کے پاس آڈیو، ویڈیو یا دستاویزی ثبوت موجود ہیں تو ان کی فرانزک جانچ کرائی جائے تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آسکے،دوسری جانب محکمہ انہار ایکسین،ایس ڈی او اور سب انجینئرزکی جانب سے مبینہ غیرقانونی تنصیبات کے خلاف کارروائیوں اور نہری نظام کی نگرانی سخت کرنے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں، تاہم متاثرین کا کہنا ہے کہ اصل سوال یہ ہے کہ اگر بے ضابطگیاں موجود تھیں تو وہ اتنے عرصے تک کس کی نگرانی میں جاری رہیں،متاثرہ کاشتکاروں نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری ، سیکرٹری آبپاشی، اینٹی کرپشن حکام اور ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ پورے معاملے کی غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔







