ملتان(وقائع نگار)نشتر ہسپتال میں مشتبہ ایچ آئی وی پازیٹو مریض کی بغیر رپورٹ سرجری پر 8 ڈاکٹرز اور ایک نرس کو معطل کردیاگیا۔نشترمیڈیکل یونیورسٹی کے ڈین آف سرجری ڈاکٹرمسعودالرئوف ہراج کوپھربچالیاگیا۔ڈاکٹرمسعودہراج کادعویٰ سچ نکلا،اپنے آپ کوبچالیااورچارج نرس سمیت دیگرڈاکٹرزپرملبہ ڈال دیاگیا۔نشتر ہسپتال ملتان کے آپریشن تھیٹر میں ایک سنگین غفلت کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں مشتبہ ایچ آئی وی پازیٹو مریض کی ایبڈومینل سرجری اس کی ایچ آئی وی سکریننگ رپورٹ کا انتظار کیے بغیر کر دی گئی جسکے بعدانہی آلات سے دیگر27مریضوں کے بھی آپریشن کردیئےگئے۔ اس واقعے پر ہسپتال انتظامیہ نے ایکشن لیتے ہوئے متعدد ڈاکٹرز، پوسٹ گریجویٹ ٹرینیز، نرس اور متعلقہ عملے کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 19 مئی 2026 کو آپریشن روم نمبر 17 (OR-17) میں مریض کی ایبڈومینل سرجری کی گئی۔ اس وقت مریض کے ہیپاٹائٹس بی اور سی کے ٹیسٹ منفی آ چکے تھےلیکن ایچ آئی وی سکریننگ رپورٹ ابھی موصول نہیں ہوئی تھی۔ترجمان نشتر ہسپتال کے مطابق یہ سرجری ہسپتال کے جاری کردہ ایس او پیز، سیفٹی پروٹوکولز اور وائس چانسلر آفس کی ہدایات کی صریح خلاف ورزی میں کی گئی۔ انتظامیہ نے اس عمل کو سنگین غفلت، بدانتظامی اور حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔معطل ہونے والے ڈاکٹرز اور عملے میں ڈاکٹر نعیم اختر (میڈیکل آفیسر، وارڈ نمبر 5)،ڈاکٹر ارسا،ڈاکٹر علی جان ،ڈاکٹر عائشہ قمر،ڈاکٹر سید محمد آصف، ڈاکٹر عبیرہ فاطمہ (پوسٹ گریجویٹ انیستھیزیا)،ڈاکٹر ابوذر (پی جی آر انیستھیزیا)،ڈاکٹر عمر (پی جی آر پیتھالوجی)،ڈاکٹر سمیعہ (پی جی آر کلینیکل)چارج نرس ردا زہر ہ کی معطلی کے احکامات جاری کردیئےگئے۔ وارڈ 5 کےمیڈیکل آفیسر، اینستھیزیا ڈیپارٹمنٹ کے ڈاکٹرز، سرجری کے پی جی ٹیز، پیتھالوجی کے پی جی آرز اور چارج نرس شامل ہیں۔نوٹیفکیشن کے مطابق تمام معطل ملازمین انکوائری مکمل ہونے تک متعلقہ دفتر میں رپورٹ کریں گے، انکوائری کے دوران پیشی یقینی بنائیں گے اور بغیر اجازت سٹیشن نہیں چھوڑ سکیں گے۔نشتر ہسپتال انتظامیہ نے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔یہ واقعہ ہسپتال کے طبی عملے اور ماحول کو ممکنہ ایچ آئی وی سمیت دیگر انفیکشن کے خطرات سے دوچار کرنے کا باعث بنا ہے۔ تفصیلی رپورٹ انکوائری کمیٹی پیش کرے گی۔واضح رہےکہ 19مئی کونشتر میڈیکل یونیورسٹی کے ڈین آف سرجری پروفیسر ڈاکٹر مسعود الرؤف ہراج کی زیر نگرانی ایچ آئی وی پازیٹو کے ایک 30 سالہ مریض شہباز ولد صفدر حسین کا ٹیسٹ کرائے بغیر آپریشن کر دیا گیاتھا اور انہی اوزاروں، اسی ماحول اور اسی لباس میں اگلے روز 20 مئی کو مجموعی طور پر 27 آپریشن بھی کر دیئے گئے مگر 20 مئی بروز بدھ شام کو مریض کی ایچ آئی وی رپورٹ پازیٹو آنے پر ہسپتال میں کھلبلی مچ گئی۔ یہ آپریشن 19 مئی کو ہوا اور اس کی حتمی فہرست ڈاکٹر مسعود الرئوف ہراج نے جاری کی۔ باوثوق اور ذمہ دار ذرائع کے مطابق ردا نامی سینئر اور تجربہ کار چارج نرس نے آپریشن سے قبل شہباز نامی مریض کا جب چارٹ چیک کیا تو شور مچا دیا کہ اس میں ایچ آئی وی کی رپورٹ شامل نہیں۔ اس لیے اس مریض کا نام لسٹ سے نکال دیں اور اس بارے میں ہیڈ نرس ممتاز اور ڈیوٹی پر موجود تمام ڈاکٹرز کو بھی آگاہ کیا مگر ہیڈ نرس نے اسے کہا کہ آپ جا کر آپریشن کی تیاری کرو اور شور نہ کرو۔ یہ آپریشن ڈاکٹر مسعود الرؤف ہراج کی نگرانی میں دو سینئر سرجنز ڈاکٹر نعیم شاہ اور ڈاکٹر ارسہ نے ابتدائی طور پر کیا اور حتمی آپریشن ڈاکٹرمسعودالرئوف ہراج نے مکمل کیا۔ مریض کی بڑی آنت کا آپریشن تھا جسے دوبارہ پیٹ کے اندر داخل کیا جانا تھا۔ اس مریض کو بے ہوشی کی دوادینے والے ڈاکٹرز میں ڈاکٹر علی جان اور ڈاکٹر اریبہ شامل ہیں جن کے نام چارٹ میں موجود ہیں اور انہوں نے بھی مریض کی ایچ آئی وی رپورٹ چارٹ میں شامل نہ ہونے کا کوئی نوٹس نہ لیا حالانکہ اگر مریض کو کھانسی بھی ہو تو اسے بے ہوشی کی دوا نہیں دی جاتی۔ نشتر میڈیکل یونیورسٹی میں اس نوعیت کی مجرمانہ غفلت کا ڈیڑھ سال کے عرصے میںیہ دوسرا سنگین نوعیت کا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ذرائع کےمطابق آپریشن تھیٹر نمبر 17 میں شہباز ولد صفدر حسین نامی 30 سالہ مریض کا آپریشن ایچ آئی وی ایڈز سکریننگ رپورٹ کے بغیر ہی کر دیا گیا جس کے بعد ہسپتال کے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل عملے میں شدید خوف اور تشویش پائی جا رہی ہے۔ 19 جون بروز منگل وارڈ نمبر 5 کے یونٹ انچارج پروفیسر ڈاکٹر مسعودالرئوف ہراج نے ایک مریض کا آپریشن کیا۔ آپریشن سے قبل ردا نامی چارج نرس نے مریض کی فائل چیک کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ اس میں HIV ایڈز ٹیسٹ رپورٹ موجود نہیںتاہم مبینہ طور پر اس اعتراض کو نظر انداز کر دیا گیا اور آپریشن جاری رکھا گیا۔ اس تمام صورتحال کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ 20 مئی بروز بدھ کو بھی اسی آپریشن تھیٹر میں معمول کے مطابق وارڈ نمبر چھ اور وارڈ نمبر چار کے مجموعی طور پر 27 آپریشن کیے گئے جن میں سے 17 مریضوں کا تعلق وارڈ نمبر چھ کے ساتھ تھا اور 10 مریضوں کا تعلق وارڈ نمبر چار کے ساتھ تھا۔ انتہائی متعلقہ ذرائع اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ آپریشن تھیٹر کے آلات، ماحول اور استعمال شدہ حفاظتی نظام کے حوالے سے عملے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو گئی جب بدھ 20 مئی کی شام مریض کی ایچ آئی وی رپورٹ آپریشن کے 28 گھنٹے بعد موصول ہوئی۔ اس واقعہ کے بعد آپریشن تھیٹر کے ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر عملے کو اپنے HIV ٹیسٹ کروانے کی ہدایت کیے جانے کی اطلاعات ہیںجبکہ ہسپتال کے اندر معاملے کو دبانے کی کوششیں جاری ہیں۔شہباز نامی مذکورہ مریض اب بھی وارڈ نمبر پانچ سے ملحقہ ایک کمرے میں چھپا کر زیر علاج رکھا گیا ہے۔ اندرونی ذرائع کے مطابق سارا ملبہ چارج نرس پر ڈال کر ڈاکٹروں اور انچارج نرس کو بچایا جا رہا ہے۔ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ اس صورتحال کے حوالے سے روزنامہ قوم نے سینئر سرجنز سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ کسی بھی سرجیکل پریکٹس سے قبل مریض کی سکریننگ رپورٹس اور انفیکشن کنٹرول کے یونیورسل پروٹوکولز پر سختی سے عمل لازنی ہوتا ہے تاکہ طبی عملے اور دیگر مریضوں کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ یہاں یہ امر توجہ طلب ہے کہ اس سے قبل بھی نشتر ہسپتال کے ڈائلیسز یونٹ میں انفیکشن کنٹرول سے متعلق سنگین غفلت پیڈا کے تحت ہونے والی انکوائری میں ثابت ہو چکی ہے جب ڈائیلسز کے دو درجن سے زائد مریضوں میں ایچ آئی وی وائرس کی منتقلی کے سنگین نوعیت کے واقعات سامنے آئے تھےجس کے بعد ادارے کے حفاظتی نظام اور انتظامی نگرانی پر متعدد سوالات اٹھائے گئے تھے۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ نشتر کے ڈائلیسز سنٹر سکینڈل میں پروفیسر مسعود ہراج ہی ایچ آئی وی مریضوں کے ریکارڈ میں ٹمپرنگ و جعلی رپورٹس مرتب کرنے میں بھی ملوث تھے جسکا ذکر وزیراعلیٰ پنجاب نے ملتان میں ایک اعلیٰ سطح میٹنگ میں بھی کیا تھا مگر ڈاکٹروں کی سیاست کے روح رواں ہونے کی وجہ سے وہ صاف بچ نکلتے ہیں اور اس واقعے میں بھی انہیں بچانے کی کوشش شروع کر دی گئی ہیں۔
نشتر معاملہ: حفاظتی پروٹوکولز پر سوالات، جونیئر افسران سے سینئرز کا اب احتساب کیسے ممکن؟
ملتان (سٹاف رپورٹر) نشتر میڈیکل کالج و ہسپتال ملتان ایک مرتبہ پھر طبی غفلت، انفیکشن کنٹرول کے ناقص انتظامات اور متنازع انکوائری کے باعث تنقید کی زد میں ہے۔ ذرائع اور متعلقہ حلقوں کی جانب سے یہ سنگین نوعیت کے سوالات دوبارہ اٹھائے جا رہے ہیںکہ آیا آپریشن تھیٹرز میں مریض کی ہسٹری، رپورٹس، سٹرلائزیشن اور حفاظتی پروٹوکولز پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا گیا تھا یا نہیں؟ آپریشن تھیٹر نمبر 17 سے متعلق سامنے آنے والے معاملے کے بعد ہسپتال انتظامیہ نے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل تو دے دی ہےتاہم کمیٹی کی ساخت اور غیر جانبداری پر سوالات اٹھاتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ جونیئر افسران کس حد تک سینئر انتظامی یا میڈیکل کے سینئر ذمہ داران کا غیرجانبدارانہ احتساب کر سکیں گے۔میڈیکل حلقوں کے مطابق اگر کسی آپریشن تھیٹر یا طبی یونٹ میں انفیکشن یا جراثیمی آلودگی کا شبہ پیدا ہو جائے تو فوری طور پر کیا فوری، مکمل اور شفاف بائیو سیفٹی پروٹوکول اپنائے گئے؟ ذرائع کے مطابق بعض تھیٹرز کو محدود مدت کیلئے بند کرنے، صفائی، جراثیم کش ادویات کے استعمال، سٹیرلائزیشن اور آلات کی دوبارہ تیاری کے بعد آپریشنز بحال کیے گئے تاہم اس پورے عمل کی شفافیت اور معیار پر سوالات ابھی بھی برقرار ہیں۔ نشتر ہسپتال کے سابقہ واقعات، خصوصاً ڈائیلسز یونٹس اور انفیکشن کنٹرول سے متعلق پرانے سانحات کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر ماضی کے معاملات میں مؤثر اور مثال قائم کرنے والی کارروائی کی جاتی تو شاید آج ایسے حادثات دوبارہ جنم نہ لیتے۔ دوسری طرف ڈاکٹرز کی نجی پریکٹس، سرکاری ذمہ داریوں اور انتظامی احتساب کے نظام پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔ تاہم متعلقہ ڈاکٹرز اور انتظامیہ کا مؤقف باقاعدہ طور پر سامنے آنا ابھی باقی ہے۔میڈیکل، قانونی اور شہری حلقوں نے حکومت پنجاب اور محکمہ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی آزاد، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، تمام تکنیکی رپورٹس، سٹیرلائزیشن ریکارڈ، انفیکشن کنٹرول لاگز اور ذمہ داری کے تعین کو عوام کے سامنے لایا جائے اور حسب سابق ملبہ ماتحت عملے، آپریشن تھیٹر اسسٹنٹس اور نرسوں پر نہ ڈالا جائے تاکہ مریضوں کے اعتماد کو بحال کیا جا سکے۔







