ملتان (سٹاف رپورٹر) ملک بھر کی سرکاری جامعات میں مالی بے ضابطگیوں، جعلی یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹس اور مبینہ کرپشن کے الزامات اور شواہد سامنے آ گئے ہیں۔ پنجاب کی بعض جامعات میں ہر سال جون کے اختتام سے قبل ایک منظم’’فنڈ ہضم مہم‘‘شروع کر دی جاتی ہے، جس کے تحت ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان سے موصول ہونے والی اربوں روپے کی گرانٹس کو فرضی وینڈرز، جعلی بلوں اور کاغذی خریداریوں کے ذریعے مکمل طور پر’’استعمال شدہ‘‘ظاہر کیا جاتا ہے۔ جون سے پہلے پہلے یونیورسٹی انتظامیہ، خزانچی دفاتر اور بعض بااثر افسران خزانے کے ساتھ روابط استعمال کرتے ہوئے وہ تمام رقوم یونیورسٹی اکاؤنٹس میں منتقل کروا لیتے ہیں جو درحقیقت خرچ ہی نہیں ہوئی ہوتیں۔ اس پورے عمل کا سب سے حیران کن پہلو یہ بتایا جا رہا ہے کہ بعد ازاں انہی رقوم کے بارے میں ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کو باضابطہ کلیئرنس سرٹیفکیٹ بھی بھجوا دیا جاتا ہے جس میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ’’گرانٹ کا 100 فیصد استعمال‘‘مکمل ہو چکا ہےجبکہ اندرونِ خانہ مبینہ طور پر صرف کاغذی کارروائی، جعلی انوائسز اور فرضی ادائیگیاں دکھائی جاتی ہیں۔ تعلیمی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر فنڈ واقعی ترقیاتی منصوبوں، ریسرچ، لیبارٹریوں، طلبہ سہولیات اور انفراسٹرکچر پر خرچ ہو رہے ہیں تو پھر بیشتر جامعات آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم کیوں ہیں؟ کئی جامعات میں لیبارٹریاں ناکارہ، ہاسٹلز خستہ حال، تدریسی معیار زبوں حالی کا شکار اور اساتذہ و طلبہ شدید مالی بحران کا شکار ہیں مگر کاغذات میں اربوں روپے’’مکمل طور پر خرچ‘‘دکھا دیے جاتے ہیں۔ اصل کھیل یہ ہے کہ اگر جون تک فنڈ خرچ نہ ہو تو قواعد کے مطابق وہ رقم واپس سرنڈر کرنا پڑتی ہےمگر بعض جامعات مبینہ طور پر اس واپسی سے بچنے کے لیے جعلی یوٹیلائزیشن کے ذریعے پہلے رقم اپنے اکاؤنٹس میں منتقل کرواتی ہیں اور پھر بعد میں مختلف طریقوں سے اس رقم کا استعمال ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس پورے عمل میں وائس چانسلرز، رجسٹرارز، خزانچی دفاتر اور انتظامی افسران کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جب کئی سال بعد آڈٹ پیراز بنتے ہیں، ڈی اے سی، ایس ڈی اے سی یا پی اے سی کی کارروائیاں شروع ہوتی ہیں تو تب تک ایک دہائی گزر چکی ہوتی ہے۔ بعض افسران ریٹائر ہو چکے ہوتے ہیں، کچھ بیرون ملک منتقل ہو جاتے ہیں جبکہ کچھ دنیا سے ہی رخصت ہو چکے ہوتے ہیں۔ نتیجتاً قومی خزانے سے نکلنے والی کروڑوں اور اربوں روپے کی رقوم کی ریکوری صرف فائلوں اور اجلاسوں تک محدود رہ جاتی ہے۔ اسی تناظر میں وفاقی وزارتِ تعلیم کے ماتحت ایک یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر کا معاملہ بھی دوبارہ زیر بحث آ گیا ہے، جنہیں مبینہ بے ضابطگیوں پر عدالت میں شدید سوالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی سینیٹ کی جانب سے ان پر ساڑھے آٹھ کروڑ روپے کی ریکوری بھی ڈالی گئی مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہ معاملہ بھی دب گیا اور آج تک اس رقم کی واپسی یا ذمہ داران کے خلاف کسی حتمی کارروائی کی واضح تفصیلات سامنے نہ آ سکیں۔ تعلیمی و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایچ ای سی، وفاقی تحقیقاتی اداروں اور آڈیٹر جنرل کے دفاتر کو گزشتہ پندرہ برسوں کے تمام یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹس، وینڈر ادائیگیوں، ترقیاتی گرانٹس اور خزانے سے منتقل ہونے والی رقوم کا فرانزک آڈٹ کرانا چاہیے تاکہ یہ طے ہو سکے کہ قومی خزانے سے نکلنے والا پیسہ واقعی تعلیم پر خرچ ہوا یا صرف فائلوں میں100 فیصد استعمال کے جعلی دعوے لکھے جاتے رہے۔







