ملتان (نمائندہ خصوصی) ملتان شہر میں بڑھتے ہوئے جرائم، ڈکیتی مزاحمت پر قتل، گھریلو تشدد اور پراسرار ہلاکتوں کے پے در پے واقعات نے شہریوں کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے چار مختلف قتل کے واقعات میں دو خواتین سمیت چار افراد جان کی بازی ہار گئےجبکہ پولیس نے تمام واقعات کی الگ الگ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ شہری و سماجی حلقوں نے بڑھتی ہوئی وارداتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مؤثر پولیسنگ اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا مطالبہ کیا ہے۔تفصیل کے مطابق تازہ ترین واقعہ ملتان کے علاقے حاجی بلاک نزد پانی والی ٹینکی میں پیش آیا جہاں مبینہ طور پر ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر 24 سالہ نوجوان کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ ریسکیو 1122 کو رات گئے فائرنگ کی ایمرجنسی موصول ہوئی جس پر امدادی ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچی۔ موقع پر موجود افراد کے مطابق نوجوان اپنی دکان کے باہر کھڑا موبائل فون پر بات کر رہا تھا کہ دو موٹر سائیکل سوار ملزمان نے اس سے موبائل فون چھیننے کی کوشش کی۔ مزاحمت کرنے پر ملزمان نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں نوجوان موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ بتایا گیا ہے کہ مقتول درزی کا کام کرتا تھا۔ اس کی شناخت عتیق الرحمٰن عمر 24 سال بتائی گئی ہے-اطلاع ملتے ہی پولیس اور فرانزک ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، شواہد اکٹھے کیے گئے جبکہ نعش کو پولیس کی نگرانی میں نشتر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ شہریوں نے بڑھتی ہوئی اسٹریٹ کرائم وارداتوں پر تشویش کا اظہار کیا۔قبل ازیں چندروزقبل دوسرا افسوسناک واقعہ ٹھوکر پل رنگیل پور کے قریب پیش آیا جہاں 56 سالہ اظہر الحق ولد عطا اللہ پراسرار طور پر گولی لگنے سے جاں بحق ہو گیا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق پولیس کنٹرول روم کی اطلاع پر امدادی ٹیم موقع پر پہنچی تو پولیس پہلے ہی موجود تھی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق اظہر الحق اپنی بیٹھک میں سو رہا تھا کہ اچانک گولی چلنے کی آواز سنائی دی۔ لواحقین جب قریب پہنچے تو اس کے سر میں گولی لگی ہوئی تھی۔ ریسکیو اہلکاروں نے سی پی آر کی کوشش کی مگر وہ جانبر نہ ہو سکا۔ پولیس حکام کے مطابق واقعے کی اصل وجوہات فوری طور پر سامنے نہ آ سکیں جبکہ قتل، خودکشی اور دیگر پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں۔ فرانزک ٹیموں نے موقع سے شواہد اکٹھے کیے جبکہ نعش کو پوسٹ مارٹم کے لیے نشتر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔تیسرا لرزہ خیز واقعہ تھانہ گلگشت کے علاقے دیوان کا باغ نواب پور روڈ میں پیش آیا جہاں مبینہ طور پر ایک نامعلوم شخص نے گھر میں گھس کر اکیلی خاتون کو تیز دھار آلے کے وار کر کے قتل کر دیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق 38 سالہ پروین مائی زوجہ محمد عرفان گھر میں اکیلی موجود تھی کہ اسی دوران نامعلوم ملزم گھر میں داخل ہوا اور اس پر پے در پے وار کیے جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی۔ پولیس حکام نے ڈکیتی سمیت دیگر محرکات کو بھی تحقیقات کا حصہ بنا لیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس، تفتیشی افسران اور فرانزک ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے گئے۔ بعد ازاں نعش کو پوسٹ مارٹم کے لیے نشتر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔چوتھا افسوسناک واقعہ وصلی والا ٹاٹے پور روڈ قادر پور راں کے علاقے میں پیش آیاتھا جہاں مبینہ طور پر گھریلو تنازعے پر خاوند نے اپنی بیوی کو تیز دھار آلے کے وار کر کے قتل کر دیا۔ ریسکیو 1122 حکام کے مطابق اطلاع ملنے پر امدادی ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچی تاہم 36 سالہ زینب زوجہ مظہر موقع پر ہی جاں بحق ہو چکی تھیں۔ خاتون کے جسم پر گہرے زخموں کے نشانات پائے گئے۔ موقع پر موجود افراد نے پولیس کو بتایا کہ مقتولہ کا خاوند مبینہ طور پر نشے کا عادی تھا اور گھریلوجھگڑے کے دوران اس نے خاتون پر حملہ کیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دیں جبکہ فرانزک ٹیموں نے شواہد اکٹھے کیے۔ بعد ازاں نعش کو پوسٹ مارٹم کے لیے نشتر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔شہر میں ایک ہی ہفتے کے دوران پیش آنے والے ان چار ہولناک قتل کے واقعات نے شہریوں میں عدم تحفظ کے احساس کو مزید بڑھا دیا ہے۔ سماجی و شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ملتان میں اسٹریٹ کرائم، ڈکیتی، گھریلو تشدد اور پراسرار قتل کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ جرائم پیشہ عناصر بلاخوف سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس گشت کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے، جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف خفیہ نگرانی کا دائرہ وسیع کیا جائے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔







