ملکی مسائل کی جڑ آئین پر عمل نہ ہونا ہے، موجودہ نظام ہی مؤثر ہے: رانا ثنا اللہ-ملکی مسائل کی جڑ آئین پر عمل نہ ہونا ہے، موجودہ نظام ہی مؤثر ہے: رانا ثنا اللہ-"مسلمان ہونے پر فخر ہے، پانچ وقت کی نماز باقاعدگی سے ادا کرتی ہوں"، راکھی ساونت-"مسلمان ہونے پر فخر ہے، پانچ وقت کی نماز باقاعدگی سے ادا کرتی ہوں"، راکھی ساونت-تھانے کے اندر خاتون سے مبینہ زیادتی، اے ایس آئی گرفتار، ایس ایچ او سمیت 78 اہلکار معطل-تھانے کے اندر خاتون سے مبینہ زیادتی، اے ایس آئی گرفتار، ایس ایچ او سمیت 78 اہلکار معطل-کشمیر میں حکومت سازی، نواز شریف نے کابینہ سے متعلق پارٹی پالیسی واضح کر دی-کشمیر میں حکومت سازی، نواز شریف نے کابینہ سے متعلق پارٹی پالیسی واضح کر دی-ڈپٹی کمشنر ملتان کا بڑا ایکشن، چیف وارڈن سول ڈیفنس اسد اللہ کھیڑا ڈی نوٹیفائی، اختیارات کے مبینہ غلط استعمال پر کارروائی-ڈپٹی کمشنر ملتان کا بڑا ایکشن، چیف وارڈن سول ڈیفنس اسد اللہ کھیڑا ڈی نوٹیفائی، اختیارات کے مبینہ غلط استعمال پر کارروائی

تازہ ترین

گیس صارفین کیلئے بڑا جھٹکا، 140 ارب کی کراس سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ مذاکرات کے دوران حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جنوری 2027 تک گیس صارفین کو دی جانے والی 140 ارب روپے کی کراس سبسڈی ختم کر دی جائے گی۔
معاشی حکام کے مطابق نئے نظام کے تحت گیس اور بجلی پر دی جانے والی رعایتیں اب صارف کے استعمال کے بجائے اس کی آمدنی کی بنیاد پر دی جائیں گی، جس کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کا ڈیٹا استعمال کیا جائے گا۔
پیٹرولیم ڈویژن کے سینئر حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام میں “پروٹیکٹڈ” اور “نان پروٹیکٹڈ” صارفین کو مختلف نرخوں پر گیس فراہم کی جاتی ہے، جس کا مالی بوجھ صنعتوں، کمرشل سیکٹر، سی این جی اسٹیشنز، سیمنٹ انڈسٹری اور زیادہ استعمال کرنے والے گھریلو صارفین برداشت کرتے ہیں۔
نئے مجوزہ نظام کے تحت تمام صارفین سے یکساں اوسط نرخ وصول کیے جائیں گے جبکہ کم آمدنی والے گھرانوں کو براہِ راست مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
حکام کے مطابق اس وقت اوسط گیس ٹیرف تقریباً 1,750 روپے فی MMBtu ہے، تاہم کچھ صارفین اس سے کافی کم نرخ پر گیس حاصل کر رہے ہیں۔
دوسری جانب محمد اورنگزیب کی قیادت میں حکومت اور آئی ایم ایف مشن کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں ملکی معیشت، آئندہ وفاقی بجٹ اور اصلاحاتی ایجنڈے پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق اجلاس میں اسٹیٹ بینک، ایف بی آر اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی، جبکہ معاشی استحکام اور مالی نظم و ضبط کو آئندہ بجٹ کا بنیادی ہدف قرار دیا گیا۔
حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان معاشی اصلاحات پر مشاورت آئندہ بھی جاری رہے گی تاکہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استحکام فراہم کیا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں