ملتان (سٹاف رپورٹر) ملک کی سرکاری جامعات میں وائس چانسلرز کی تعیناتیوں، بھاری ’’انویسٹمنٹ‘‘ اور پھر اسی سرمایہ کاری کو پورا کرنے کے لیے مبینہ مالیاتی کھیل کے تہلکہ خیز انکشافات نے تعلیمی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق بعض جامعات میں وائس چانسلر کی کرسی اب علمی قابلیت کے بجائے’’سرمایہ کاری‘‘کا ایسا منصوبہ بنتی جا رہی ہے جہاں تعیناتی کے بعد سب سے پہلا ہدف لگائی گئی رقم کو کئی گنا بڑھا کر واپس حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ملتان کی ایک بڑی یونیورسٹی کے سابقہ اور بعد ازاں برطرف ہونے والے وائس چانسلر نے مبینہ طور پر سیلف فنانس سکیم کو’’سونے کی کان‘‘میں تبدیل کر دیا۔ دستاویزات اور اندرونی ذرائع کے مطابق یونیورسٹی میں اگر سیلف فنانس کی باضابطہ طور پر صرف 500 نشستیں موجود تھیں تو مختلف مخصوص کوٹہ جات، خصوصی نشستوں اور اندرون خانہ اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ان نشستوں کو خاموشی سے سیلف فنانس میں تبدیل کیا گیا اور مجموعی تعداد تقریباً 900 تک پہنچا دی گئی۔ ذرائع کے مطابق اصل خطرہ یہ تھا کہ اگر سرکاری ریکارڈ میں 500 سے زائد سیلف فنانس نشستیں ظاہر ہوتیں تو آڈٹ اعتراضات اور تحقیقات کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ چنانچہ مبینہ طور پر ایک’’خفیہ اکاؤنٹ‘‘قائم کیا گیا جہاں اضافی تقریباً 400 طلبا و طالبات سے فی کس پانچ لاکھ روپے تک کی فیس وصول کی گئی۔ یوں صرف ایک ہی داخلہ سیزن میں تقریباً 20 کروڑ روپے اکٹھے کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ تحقیقی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ رقم نہ صرف سرکاری اکاؤنٹس سے باہر رکھی گئی بلکہ پورے عمل کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا کہ بظاہر سرکاری ریکارڈ صاف دکھائی دے جبکہ اصل مالیاتی بہاؤ الگ راستے سے چلتا رہے۔ یونیورسٹی کے بعض افسران کے مطابق یہ ایک’’منظم مالیاتی ماڈل‘‘تھا جس میں مخصوص افراد کو نوازنے، میرٹ تبدیل کرنے اور مخصوص سیٹوں کو خفیہ طور پر فروخت کرنے جیسے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ اسی نوعیت کا ایک اور حیران کن انکشاف ایک دوسری یونیورسٹی کے حوالے سے سامنے آیا ہے جہاں مبینہ طور پر وائس چانسلر نے سیلف فنانس کی فیسیں سرکاری اکاؤنٹس کے بجائے ایک الگ اکاؤنٹ میں وصول کروائیں اور کروڑوں روپے جمع کیے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انہی رقوم کے ذریعے بعد ازاں ایک بڑی اور اہم جامعہ میں نئی تعیناتی حاصل کی گئی۔مزید سنسنی خیز دعویٰ یہ سامنے آیا ہے کہ باقی ماندہ رقوم کو ایک خاتون اداکارہ کے ذریعے دبئی منتقل کیا گیا جہاں مبینہ طور پر ایک غیر ملکی بینک اکاؤنٹ میں یہ سرمایہ رکھا گیا۔ تعلیمی حلقے اس معاملے کو ملک کی اعلیٰ تعلیم کے نظام پر ایک سنگین سوالیہ نشان قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اگر جامعات میں وائس چانسلر کی کرسی’’سرمایہ کاری‘‘ بن جائے تو پھر تعلیمی ادارے تحقیق، میرٹ اور علم کے مراکز نہیں بلکہ مالیاتی مفادات کے اڈے بن جاتے ہیں۔ والدین اور طلبہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کے اداروں میں سیلف فنانس پالیسی، خفیہ اکاؤنٹس، اضافی نشستوں اور وائس چانسلرز کے مالی معاملات کی فوری فرانزک آڈٹ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ تعلیمی ادارے چل رہے ہیں یا منافع بخش کاروباری سلطنتیں۔







