پنجاب حکومت کا نصاب میں “معرکہ حق” شامل کرنے کا فیصلہ، نئی تعلیمی و آگاہی پالیسی منظور-پنجاب حکومت کا نصاب میں “معرکہ حق” شامل کرنے کا فیصلہ، نئی تعلیمی و آگاہی پالیسی منظور-گیس صارفین کیلئے بڑا جھٹکا، 140 ارب کی کراس سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ-گیس صارفین کیلئے بڑا جھٹکا، 140 ارب کی کراس سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ-انمول عرف پنکی کا ایک اور مبینہ آڈیو سامنے آگیا، گرفتاری کے باوجود نیٹ ورک جاری رکھنے کا دعویٰ-انمول عرف پنکی کا ایک اور مبینہ آڈیو سامنے آگیا، گرفتاری کے باوجود نیٹ ورک جاری رکھنے کا دعویٰ-سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا انمول عرف پنکی کیس کا نوٹس، منشیات نیٹ ورک پر سخت کارروائی کا عندیہ-سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا انمول عرف پنکی کیس کا نوٹس، منشیات نیٹ ورک پر سخت کارروائی کا عندیہ-شیخ زید میڈیکل کالج: ایڈمن افسر کو بچانے کیلئے ملازمہ ذہنی مریضہ قرار، بار بار تبادلے-شیخ زید میڈیکل کالج: ایڈمن افسر کو بچانے کیلئے ملازمہ ذہنی مریضہ قرار، بار بار تبادلے

تازہ ترین

گیس صارفین کیلئے بڑا جھٹکا، 140 ارب کی کراس سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ مذاکرات کے دوران حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جنوری 2027 تک گیس صارفین کو دی جانے والی 140 ارب روپے کی کراس سبسڈی ختم کر دی جائے گی۔
معاشی حکام کے مطابق نئے نظام کے تحت گیس اور بجلی پر دی جانے والی رعایتیں اب صارف کے استعمال کے بجائے اس کی آمدنی کی بنیاد پر دی جائیں گی، جس کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کا ڈیٹا استعمال کیا جائے گا۔
پیٹرولیم ڈویژن کے سینئر حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام میں “پروٹیکٹڈ” اور “نان پروٹیکٹڈ” صارفین کو مختلف نرخوں پر گیس فراہم کی جاتی ہے، جس کا مالی بوجھ صنعتوں، کمرشل سیکٹر، سی این جی اسٹیشنز، سیمنٹ انڈسٹری اور زیادہ استعمال کرنے والے گھریلو صارفین برداشت کرتے ہیں۔
نئے مجوزہ نظام کے تحت تمام صارفین سے یکساں اوسط نرخ وصول کیے جائیں گے جبکہ کم آمدنی والے گھرانوں کو براہِ راست مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
حکام کے مطابق اس وقت اوسط گیس ٹیرف تقریباً 1,750 روپے فی MMBtu ہے، تاہم کچھ صارفین اس سے کافی کم نرخ پر گیس حاصل کر رہے ہیں۔
دوسری جانب محمد اورنگزیب کی قیادت میں حکومت اور آئی ایم ایف مشن کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں ملکی معیشت، آئندہ وفاقی بجٹ اور اصلاحاتی ایجنڈے پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق اجلاس میں اسٹیٹ بینک، ایف بی آر اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی، جبکہ معاشی استحکام اور مالی نظم و ضبط کو آئندہ بجٹ کا بنیادی ہدف قرار دیا گیا۔
حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان معاشی اصلاحات پر مشاورت آئندہ بھی جاری رہے گی تاکہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استحکام فراہم کیا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں