پنجاب حکومت کا نصاب میں “معرکہ حق” شامل کرنے کا فیصلہ، نئی تعلیمی و آگاہی پالیسی منظور-پنجاب حکومت کا نصاب میں “معرکہ حق” شامل کرنے کا فیصلہ، نئی تعلیمی و آگاہی پالیسی منظور-گیس صارفین کیلئے بڑا جھٹکا، 140 ارب کی کراس سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ-گیس صارفین کیلئے بڑا جھٹکا، 140 ارب کی کراس سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ-انمول عرف پنکی کا ایک اور مبینہ آڈیو سامنے آگیا، گرفتاری کے باوجود نیٹ ورک جاری رکھنے کا دعویٰ-انمول عرف پنکی کا ایک اور مبینہ آڈیو سامنے آگیا، گرفتاری کے باوجود نیٹ ورک جاری رکھنے کا دعویٰ-سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا انمول عرف پنکی کیس کا نوٹس، منشیات نیٹ ورک پر سخت کارروائی کا عندیہ-سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا انمول عرف پنکی کیس کا نوٹس، منشیات نیٹ ورک پر سخت کارروائی کا عندیہ-شیخ زید میڈیکل کالج: ایڈمن افسر کو بچانے کیلئے ملازمہ ذہنی مریضہ قرار، بار بار تبادلے-شیخ زید میڈیکل کالج: ایڈمن افسر کو بچانے کیلئے ملازمہ ذہنی مریضہ قرار، بار بار تبادلے

تازہ ترین

شیخ زید میڈیکل کالج: ایڈمن افسر کو بچانے کیلئے ملازمہ ذہنی مریضہ قرار، بار بار تبادلے

ملتان(سٹاف رپورٹر) شیخ زید میڈیکل کالج کے پرنسپل کے منظور نظر ایڈمن افسر کیخلاف ادارے کی سٹینو گرافر کی طرف سے درخواست دینا مہنگا پڑ گیا، پرنسپل نے خاتون کی درخواست پر کمیٹی تشکیل دینے کیلئے اپنے پسندیدہ ڈاکٹر پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیکر خاتون کو دماغی مریضہ قرار دلوا دیا اور میڈیکل بورڈ بنا کر معاملہ ٹھپ کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا، پرنسپل نے درخواست گزار خاتون کے ایک سال میں مختلف شعبہ جات میں متعدد بار ٹرانسفر کروا دیے، سٹینو گرافر خاتون سے پرچی کلرک، استقبالیہ، گائنی وارڈ میں جبری ڈیوٹیاں لی جانے لگیں، پرنسپل نے ایڈمن افسر کو تحفظ فراہم کرنے اور متاثرہ خاتون کو نوکری سے نکلوانے کیلئے نامعلوم شہری سے میٹرک کی جعلی سند کی درخواست دلوا دی جس پر انکوائری جاری ہے۔ تفصیل کے مطابق پنجاب کی آئرن لیڈی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے دور حکومت میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کے واقعات میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، ایسا ہی ایک واقعہ شیخ زید میڈیکل کالج رحیم یارخان میں پیش آیا جہاں پر شیخ زید میڈیکل کالج کی بااثر شخصیات کی سرپرستی میں بطور ایڈمن آفیسر تعینات غلام مصطفیٰ نے ادارے میں سکیل 15 پر بطور سٹینو گرافر کام کرنیوالی خاتون کو گزشتہ کئی ماہ سے ہراساں کرنا شروع کر رکھا تھا جس کیخلاف متاثرہ خاتون نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز، چیئرمین پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ اور پرنسپل شیخ زید میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سلیم لغاری کو درخواست گزاری۔ پرنسپل شیخ زید و میڈیکل کالج انصاف اور دادرسی کی بجائے سیخ پا ہو گئے اور مبینہ انکوائری کمیٹی قائم کر دی جس میں دونوں فریقین کو انکوائری کیلئے بلایا گیا، سائیکالوجی کے ڈاکٹر پر مشتمل انکوائری کمیٹی ممبران نے پرنسپل شیخ زید میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سلیم لغاری کی ایما پر خاتون کو ذہنی مریضہ قرار دیتے ہوئے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی سفارش کی تاکہ بورڈ کے ذریعے اسے نوکری سے نکالنے کی راہ ہموار ہو سکے۔ ذرائع کے مطابق ایڈمن آفیسر غلام مصطفیٰ پرنسپل شیخ زید ہسپتال و میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سلیم لغاری کا مبینہ فرنٹ مین ہے جو ادارےمیں بھرتیوں میں لاکھوں روپے کما کر دیتا ہے اور شیخ زید میڈیکل کالج کے مالی معاملات میں ہیر پھر کرنے کا ماہر ہے، ذرائع نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب حکومت نے صوبہ بھر کے میڈیکل کالجز میں ایڈمن افسر کی پوسٹ ہی ختم کر دی ہے مگر اس کے باوجود پرنسپل شیخ زید ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر سلیم لغاری نے اختیارات کا ناجائز استعمال اور پنجاب حکومت کی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے اپنے بااعتماد ماتحت غلام مصطفیٰ کو ایڈمن افسر کی ہی سیٹ پر اپنے ہی احکامات سے تعینات کر رکھا ہے ،جس کی کوئی قانونی حیثیت نہ ہے۔ کماؤ پتر کے خلاف درخواست دینے کے رنج میں کمیٹی کمیٹی کھیلتے پرنسپل سلیم لغاری نے درخواست گزار خاتون کے خلاف نفسیاتی میڈیکل بورڈ بٹھا کر اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال اور ویمن حراسمنٹ ایکٹ 2010 کی روح درخواست گزار خلاف بورڈ تشکیل دینا اسے مزید حراساں کرنے اور شہادت کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق ادارے میں خاتون کو ہراساں کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے قبل میں کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں اور کئی متاثرہ خواتین اپنی عزت کو بچانے اور خاندان کی بدنامی کے ڈر سے نوکری چھوڑ اور ٹرانسفر کروا چکی ہیں۔متاثرہ خاتون کے مطابق وہ گزشتہ 16 سال سے شیخ زید میڈیکل کالج میں بطور اسٹینو گرافر کی سیٹ پر تعینات ہیں ،دوران انکوائر ی مجھے پریشرائز کرنے اور کیس سے پیچھے ہٹانے کیلئے پرنسپل شیخ زید میڈیکل کالج اور ایڈمن آفیسر غلام مصطفیٰ نے ایک نامعلوم شہری سے میٹرک کی سند جعلی ہونے کی درخواست دلوائی اور اس درخواست پر پرنسپل نے فوری ایکشن لیتے ہوئے انکوائری سٹینڈ کر دی اور دوران انکوائری مجھے نوکری سے نکالنے سمیت سنگین نتائج کے الزامات عائد کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئی۔ متاثرہ خاتون نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیئرمین پنجاب ویمن پروٹیکیشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ سے فوری نوٹس لینے اور اعلیٰ سطحیٰ انکوائری کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں