ملتان (وقائع نگار)نشتر ٹو میں میڈیکل گلوز خریداری سکینڈل، مقدمہ درج ہونے کے باوجود افسران بدستور عہدوں پر برقرارنشتر ٹو ہسپتال ملتان میں میڈیکل گلوز کی خریداری میں مبینہ طور پر کروڑوں روپے کی کرپشن کے معاملے نے سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ملتان میں مقدمہ درج ہونے کے باوجود متعلقہ افسران نہ صرف اپنے عہدوں پر بدستور براجمان ہیں بلکہ محکمانہ کارروائی بھی شروع نہیں کی جا سکی۔ذرائع کے مطابق میڈیکل گلوز کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں اور مالی خرد برد کے الزامات کے تحت چھ ماہ قبل انکوائری کے بعد مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس مقدمے میں خریداری کے عمل، ٹینڈرنگ اور تکنیکی منظوری کے مراحل میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں کا انکشاف سامنے آیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کیس میں ڈاکٹر وقاص افضل اور شہزاد شریف کے نام سامنے آنے کے باوجود انہیں تاحال معطل نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کے خلاف باقاعدہ محکمانہ انکوائری شروع کی جا سکی ہے۔دوسری جانب محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب کی خاموشی بھی سوالیہ نشان بن چکی ہےجبکہ اینٹی کرپشن میں کیس درج ہونے کے باوجود متعلقہ افسران کو اہم عہدوں پر برقرار رکھا گیا ہے۔واضح رہے کہ مریم نواز شریف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد مختلف اجلاسوں میں ہدایات جاری کی تھیں کہ سرکاری محکموں میں کرپشن سے متعلق انکوائریوں کو تین ماہ کے اندر مکمل کیا جائے اور ملوث افسران و ملازمین کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔ تاہم نشتر ٹو کے اس مبینہ کرپشن کیس میں چھ ماہ گزرنے کے باوجود نہ تو انکوائری مکمل ہو سکی اور نہ ہی ذمہ داروں کے خلاف تادیبی اقدامات کیے جا سکے۔ذرائع کے مطابق ہسپتال کے اندر بھی اس معاملے پر شدید تشویش پائی جاتی ہے اور ملازمین کا کہنا ہے کہ اگر مقدمہ درج ہونے کے باوجود افسران کے خلاف کارروائی نہ ہو تو احتساب کا نظام بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔سماجی و عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ نشتر ٹو میڈیکل گلوز خریداری اسکینڈل کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف فوری قانونی و محکمانہ کارروائی کی جائے تاکہ سرکاری خزانے کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔







