پنجاب حکومت کا نصاب میں “معرکہ حق” شامل کرنے کا فیصلہ، نئی تعلیمی و آگاہی پالیسی منظور-پنجاب حکومت کا نصاب میں “معرکہ حق” شامل کرنے کا فیصلہ، نئی تعلیمی و آگاہی پالیسی منظور-گیس صارفین کیلئے بڑا جھٹکا، 140 ارب کی کراس سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ-گیس صارفین کیلئے بڑا جھٹکا، 140 ارب کی کراس سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ-انمول عرف پنکی کا ایک اور مبینہ آڈیو سامنے آگیا، گرفتاری کے باوجود نیٹ ورک جاری رکھنے کا دعویٰ-انمول عرف پنکی کا ایک اور مبینہ آڈیو سامنے آگیا، گرفتاری کے باوجود نیٹ ورک جاری رکھنے کا دعویٰ-سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا انمول عرف پنکی کیس کا نوٹس، منشیات نیٹ ورک پر سخت کارروائی کا عندیہ-سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا انمول عرف پنکی کیس کا نوٹس، منشیات نیٹ ورک پر سخت کارروائی کا عندیہ-شیخ زید میڈیکل کالج: ایڈمن افسر کو بچانے کیلئے ملازمہ ذہنی مریضہ قرار، بار بار تبادلے-شیخ زید میڈیکل کالج: ایڈمن افسر کو بچانے کیلئے ملازمہ ذہنی مریضہ قرار، بار بار تبادلے

تازہ ترین

دو سال بعد بھی انتخابی انصاف ادھورا، ٹریبونلز کارکردگی سست، سینکڑوں عذرداریاں ریز التوا

ملتان(انویسٹی گیشن سیل) قانونی مدت ختم ہونے کے دو سال بعد بھی انتخابی انصاف ادھورا ہے۔ عام انتخابات میں ناکام اُمیدواروں کی جانب سے دائر 374 انتخابی عذرداریوں میں سے 246 کا فیصلہ ہو سکا، اسلام آباد کے تمام مقدمات تاحال زیرِ التواء ہیں، نیز بیشتر انتخابی عذرداریاں خارج ہوئیں۔ فروری 2024ء کے عام انتخابات کے بعد دائر ہونے والی انتخابی عذرداریوں پر فیصلوں کی رفتار سست روی کا شکار ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق انتخابی عذرداریوں کی مقررہ مدت گزرنے کے دو سال سے زائد عرصہ کے باوجود انتخابی ٹریبونلز صرف 66 فیصد مقدمات ہی نمٹا سکے ہیں جبکہ درجنوں قومی و صوبائی اسمبلی حلقوں کے تنازعات اب بھی عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔ رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کے 113 اور صوبائی اسمبلیوں کے 236 حلقوں کے نتائج کو چیلنج کرتے ہوئے مجموعی طور پر 374 انتخابی عذرداریاں دائر کی گئی تھیں۔ اپریل 2026ء کے اختتام تک ان میں سے 246 درخواستوں کا فیصلہ کیا جا سکا، جن میں قومی اسمبلی سے متعلق 124 میں سے 73 اور صوبائی اسمبلیوں سے متعلق 250 میں سے 173 درخواستیں شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک نے انتخابی ٹریبونلز، ہائیکورٹس اور سپریم کورٹ آف پاکستان کی سرکاری ویب سائٹس سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کیے ہیں۔ الیکشن ایکٹ 2017ء کی دفعہ 142 کے تحت امیدوار اپنے حلقے کے انتخابی نتائج کو گزٹ نوٹیفکیشن کے 45 روز کے اندر چیلنج کر سکتے ہیں، جبکہ دفعہ 148(5) کے مطابق انتخابی ٹریبونلز کو ہر درخواست 180 دن میں نمٹانا لازم ہے۔ اس حساب سے تمام درخواستوں کے فیصلوں کی قانونی مدت اکتوبر 2024ء میں ختم ہو چکی تھی، تاہم پنجاب میں ٹریبونلز کی تشکیل میں تاخیر کے باعث صرف دو فعال ٹریبونلز کئی ماہ تک کام کرتے رہے، جس نے مقدمات کے فیصلوں کو شدید متاثر کیا۔ قانون کے مطابق اگر مقدمات 180 دن سے زائد عرصہ زیرِ سماعت رہیں تو خصوصی شرائط لاگو ہوتی ہیں، جن میں غیر ضروری التواء پر اضافی اخراجات، التواء کی وجوہات کا ریکارڈ، اور اگر تاخیر کامیاب امیدوار کی وجہ سے ہو تو اس کی اسمبلی رکنیت معطل کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ جولائی 2025ء تک 171 درخواستوں کے فیصلے ہو چکے تھے، تاہم گزشتہ نو ماہ کے دوران صرف 75 مزید مقدمات نمٹائے جا سکے، یعنی اوسطاً صرف 8 مقدمات ماہانہ نمٹائے گئے ہیں۔ اس سے قبل فروری 2024ء سے جولائی 2025ء تک اوسطاً ہر ماہ 10 مقدمات کا فیصلہ کیا جا رہا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ مہینوں میں انتخابی انصاف کی رفتار مزید کم ہو گئی ہے۔ صوبائی سطح پر مقدمات نمٹانے کی رفتار میں نمایاں فرق دیکھا گیا۔بلوچستان میں 52 میں سے 49 درخواستوں کا فیصلہ ہوا، شرح 94 فیصد رہی۔ پنجاب میں 192 میں سے 147 درخواستیں نمٹائی گئیں، یعنی 77 فیصد، خیبرپختونخوا میں 43 میں سے 26 مقدمات کا فیصلہ ہوا، شرح 60 فیصد رہی۔ سندھ میں 84 میں سے صرف 24 درخواستیں نمٹ سکیں، جو صرف 29 فیصد بنتی ہے۔ اس مدت کے دوران نمٹائے گئے 75 مقدمات میں سے 53 پنجاب سے، 14 خیبرپختونخوا سے،5 بلوچستان سے اور صرف 3 سندھ سے تعلق رکھتے تھے۔ اسلام آباد کی کسی بھی انتخابی عذرداری کا تاحال فیصلہ نہیں ہو سکا۔ اب تک نمٹائے گئے 246 مقدمات میں سے 242 درخواستیں مختلف وجوہات کی بنیاد پر مسترد کی گئیں، جبکہ صرف چار درخواستوں میں ٹریبونلز نے انتخابی نتائج چیلنج کرنے والے امیدواروں کے حق میں فیصلہ دیا گیا۔ مسترد ہونے والی عذرداریوں میں 123 ناقابلِ سماعت قرار دی گئیں، جن میں 44 قومی اسمبلی اور 79 صوبائی اسمبلی حلقوں سے متعلق تھیں۔26 عذرداریاں الزامات ثابت نہیں ہونے پر خارج ہوئیں۔ 12 عذرداریاں واپس لے لی گئیں۔ 16 عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کی گئیںجبکہ دو درخواستیں دیگر وجوہات مثلاً کامیاب امیدوار کے انتقال یا استعفیٰ کے باعث نمٹائی گئیں۔ فافن کے مطابق 63 مقدمات کے فیصلوں کی نقول دستیاب نہیں ہونے کے باعث ان کے مسترد ہونے کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکیں۔سپریم کورٹ میں 123 اپیلیں دائرانتخابی ٹریبونلز کے فیصلوں کے خلاف مجموعی طور پر 123 اپیلیں سپریم کورٹ میں دائر کی جا چکی ہیں۔ ان میں 5 اپیلیں ان 4 مقدمات کے خلاف ہیں جن میں درخواست گزار کامیاب ہوئے جبکہ 118 اپیلیں مسترد شدہ درخواستوں کے خلاف دائر کی گئیں۔ سپریم کورٹ اب تک13 اپیلیں مسترد کر چکی ہے، جبکہ 105 اپیلیں تاحال زیرِ سماعت ہیں۔سپریم کورٹ میں دائر اپیلوں میں64 اپیلیں پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے دائر کیں، 11 مسلم لیگ (ن)، 9 آزاد امیدواروں،7 جے یو آئی (ف)، اور 3 پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے امیدواروں نے دائر کیں۔ اسمبلیوں کے اعتبار سے37 اپیلیں قومی اسمبلی، جبکہ 86 صوبائی اسمبلی انتخابات سے متعلق ہیں۔ صوبائی تقسیم کے مطابق 68 اپیلیں پنجاب، 39 بلوچستان، 10 سندھ، اور 6 خیبرپختونخوا سے تعلق رکھتی ہیں۔ سب سے زیادہ درخواستیں پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کی ہیں۔ مجموعی عذرداریوں میں 55 فیصد پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے دائر کیں۔ مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں نے 13 فیصد، پیپلز پارٹی 8 فیصد، آزاد امیدوار 7 فیصد، جبکہ جے یو آئی (ف) کے امیدوار بھی 7 فیصد درخواستوں کے ساتھ شامل رہے۔درخواستوں کے فیصلوں کی شرح کے مطابق ازاد امیدواروں کی 85 فیصد درخواستیں نمٹائی جا چکی ہیں، مسلم لیگ (ن) کی 75 فیصد،جے یو آئی (ف) کی 64 فیصد، پیپلز پارٹی کی 61 فیصد، جبکہ پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدواروں کی 60 فیصد درخواستوں کا فیصلہ ہوا۔ جن کامیاب امیدواروں کے خلاف درخواستیں دائر کی گئیں، ان میں مسلم لیگ (ن) سرفہرست رہی، جن کے خلاف 39 فیصد عذرداریاں دائر ہوئیں۔ پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کے خلاف 16 فیصد،ایم کیو ایم پاکستان اور پیپلز پارٹی کے خلاف 13،13 فیصد، ازاد امیدواروں کے خلاف 6 فیصد، جبکہ جے یو آئی (ف) کے خلاف 5 فیصد درخواستیں دائر کی گئیں۔ فیصلوں کی شرح کے مطابق پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کے خلاف 77 فیصد مقدمات نمٹائے جا چکے ہیں، مسلم لیگ (ن) کے خلاف 76 فیصد، آزاد امیدواروں کے خلاف 75 فیصد، جے یو آئی (ف) کے خلاف 67 فیصد، پیپلز پارٹی کے خلاف 46 فیصد، جبکہ ایم کیو ایم پاکستان کے خلاف صرف 37 فیصد مقدمات کا فیصلہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق انتخابی مقدمات میں مسلسل تاخیر نہ صرف انتخابی شفافیت پر سوالات اٹھا رہی ہے بلکہ یہ عوام کے جمہوری نظام پر اعتماد کو بھی متاثر کر رہی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں