پنجاب حکومت کا نصاب میں “معرکہ حق” شامل کرنے کا فیصلہ، نئی تعلیمی و آگاہی پالیسی منظور-پنجاب حکومت کا نصاب میں “معرکہ حق” شامل کرنے کا فیصلہ، نئی تعلیمی و آگاہی پالیسی منظور-گیس صارفین کیلئے بڑا جھٹکا، 140 ارب کی کراس سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ-گیس صارفین کیلئے بڑا جھٹکا، 140 ارب کی کراس سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ-انمول عرف پنکی کا ایک اور مبینہ آڈیو سامنے آگیا، گرفتاری کے باوجود نیٹ ورک جاری رکھنے کا دعویٰ-انمول عرف پنکی کا ایک اور مبینہ آڈیو سامنے آگیا، گرفتاری کے باوجود نیٹ ورک جاری رکھنے کا دعویٰ-سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا انمول عرف پنکی کیس کا نوٹس، منشیات نیٹ ورک پر سخت کارروائی کا عندیہ-سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا انمول عرف پنکی کیس کا نوٹس، منشیات نیٹ ورک پر سخت کارروائی کا عندیہ-شیخ زید میڈیکل کالج: ایڈمن افسر کو بچانے کیلئے ملازمہ ذہنی مریضہ قرار، بار بار تبادلے-شیخ زید میڈیکل کالج: ایڈمن افسر کو بچانے کیلئے ملازمہ ذہنی مریضہ قرار، بار بار تبادلے

تازہ ترین

لودھراں ٹریفک پولیس میں بڑا مالی سکینڈل، سینکڑوں چالانوں کے لاکھوں روپے غائب

ملتان(کرائم سیل)سینئر ٹریفک وارڈن کے اکاؤنٹ سے کیے گئے سینکڑوں چالانوں کی لاکھوں روپے کی رقم مبینہ طور پر سرکاری خزانے میں جمع نہ ہونیکا انکشاف ہواہے،محکمہ ٹریفک پولیس کی کارکردگی مایوس کن ،ٹریفک وارڈن ظفر تین سالوں سے لودھراں پر مسلط ہے۔ذرائع کے مطابق لودھراں میں تعینات سینئر ٹریفک وارڈن ظفر میتلا کے اکاؤنٹ سے کیے گئے تقریباً 500 کے قریب چالانوں کی رقم جوکہ فی کس چالان 2000 روپے کے حساب سے 10 لاکھ روپے کے قریب بنتی ہے تاحال جمع نہیں کروائے گئے جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ شہری حلقوں نے اس معاملے کو بدعنوانی کی سنگین مثال قرار دیتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ مزید برآں مذکورہ وارڈن کے خلاف سابقہ سال میں ایک عدد مبینہ بجلی چوری کے الزام کے طور پر مقدمہ بھی درج ہےجبکہ وہ گزشتہ تین سالوں سے مسلسل لودھراں میں تعینات ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ لائسنس برانچ میں تعیناتی کے دوران بھی ان پر بدعنوانی کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں تاہم کسی موثر کارروائی کی اطلاع نہیں ملی۔شہریوں اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری اہلکار ہی قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث ہوں تو نظام کی ساکھ بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے آر پی او ملتان،ڈی پی او لودھراں اور ڈی آئی جی ٹریفک پولیس پنجاب دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف انکوائری کر کے ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔ موقف لینے پر سینئر ٹریفک وارڈن نے الزامات کی تردید کردی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں