پنجاب حکومت کا نصاب میں “معرکہ حق” شامل کرنے کا فیصلہ، نئی تعلیمی و آگاہی پالیسی منظور-پنجاب حکومت کا نصاب میں “معرکہ حق” شامل کرنے کا فیصلہ، نئی تعلیمی و آگاہی پالیسی منظور-گیس صارفین کیلئے بڑا جھٹکا، 140 ارب کی کراس سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ-گیس صارفین کیلئے بڑا جھٹکا، 140 ارب کی کراس سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ-انمول عرف پنکی کا ایک اور مبینہ آڈیو سامنے آگیا، گرفتاری کے باوجود نیٹ ورک جاری رکھنے کا دعویٰ-انمول عرف پنکی کا ایک اور مبینہ آڈیو سامنے آگیا، گرفتاری کے باوجود نیٹ ورک جاری رکھنے کا دعویٰ-سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا انمول عرف پنکی کیس کا نوٹس، منشیات نیٹ ورک پر سخت کارروائی کا عندیہ-سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا انمول عرف پنکی کیس کا نوٹس، منشیات نیٹ ورک پر سخت کارروائی کا عندیہ-شیخ زید میڈیکل کالج: ایڈمن افسر کو بچانے کیلئے ملازمہ ذہنی مریضہ قرار، بار بار تبادلے-شیخ زید میڈیکل کالج: ایڈمن افسر کو بچانے کیلئے ملازمہ ذہنی مریضہ قرار، بار بار تبادلے

تازہ ترین

ہر قسم کی صورتحال کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں، دشمن کو بھرپور جواب دیں گے: ایران

تہران: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں اور ایران کے خلاف جارحیت کرنے والوں کو سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو بربریت، جارحیت اور طاقت کے ناجائز استعمال کے خلاف ایران کا ساتھ دینا ہوگا، بصورت دیگر دنیا طاقتور ممالک کی بالادستی اور لاقانونیت کی طرف بڑھ جائے گی۔
انہوں نے امریکا اور اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف جاری تنازع صرف وسائل یا زمین کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ اس بات کی جنگ ہے کہ دنیا میں مستقبل کے اصول اور اقدار کون طے کرے گا۔
ایرانی ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران پر حملے کرنے والے ممالک بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کو کھلے عام نظر انداز کر رہے ہیں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خواتین کے اسپورٹس ہالز سمیت شہری تنصیبات پر بھی حملے کیے گئے۔
اسماعیل بقائی کے مطابق ایرانی عوام اور سیکیورٹی فورسز ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں کہ بے گناہ جانوں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی جلد بھارت کا دورہ کریں گے جہاں وہ برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔
ایران کی جانب سے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتا ہوا سفارتی و عسکری تناؤ عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں