نواز شریف کی پسندیدہ تفریح گاہ لال سونہارا پارک اجڑ گیا، کرپشن، ٹمبر مافیا کی جڑیں مضبوط

بہاولپور(تحصیل رپورٹر)جنوبی پنجاب کی تاریخی اور ملک بھر میں معروف تفریحی گاہ لال سونہارا نیشنل پارک مبینہ کرپشن، بدانتظامی اور محکمانہ غفلت کے باعث تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی۔ وہ پارک جہاں سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف متعدد بار سیر و تفریح اور قدرتی ماحول سے لطف اندوز ہونے کے لیے آتے رہےآج ویرانی، خوف اور بدحالی کی تصویر بن چکا ہے۔ پارک میں تعینات ڈیلی ویجز ملازمین، مبینہ جعلی حاضریوں، تنخواہوں میں خوردبرد اور لکڑی مافیا کے گٹھ جوڑ کے انکشافات نے محکمہ جنگلات کی کارکردگی کا پول کھول دیا ہے۔ذرائع کے مطابق بہاولپور کی تحصیل صدر لال سونہارا نیشنل پارک میں 18 سے 20 ڈیلی ویجز ملازمین کاغذات میں تو ڈیوٹی پر موجود دکھائے جاتے ہیں لیکن عملی طور پر کئی ملازمین گھروں میں بیٹھ کر تنخواہیں وصول کر رہے ہیں۔ الزام ہے کہ بعض ملازمین مبینہ طور پر بلاک آفیسر وجیہہ الحسن سے ساز باز کرکے ماہانہ پانچ ہزار روپے کے عوض باقی تنخواہ واپس کرتے ہیں جبکہ کچھ ملازمین کو پارک میں حاضری لگوانے کے بعد بھی مکمل تنخواہ نہیں دی جاتی ان کو لکڑیاں کاٹنے کا فری ہینڈ دے دیا گیا ہے جہاں پر حکومتی خزانے کا دو طرح کا نقصان ہو رہا ہے ایک تو سرسبز و شاداب درختوں کا صفایا ہو رہا ہے دوسری جانب سیاحوں کا سیر و تفریح کے لیے نہ آنا بھی نقصان میں شامل ہے۔جب ملازمین کے اکاؤنٹس میں تنخواہیں منتقل ہوتی ہیں تو انہیں مبینہ طور پر بلاک آفیسرکی سرکاری رہائش گاہ پر بلایا جاتا ہے جہاں ایک ڈیوائس ریٹیلر کے ذریعے انگوٹھے لگوا کر رقوم نکلوائی جاتی ہیں۔ بعد ازاں فی ملازم تین سے پانچ ہزار روپے دے کر باقی رقم مبینہ طور پر بلاک آفیسر اپنے پاس رکھ لیتا ہے۔ تنخواہوں کے اس مبینہ نظام کے بدلے ملازمین کو جنگلاتی علاقے سے لکڑیاں کاٹنے اور فروخت کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ پارک اور اس کے اطراف سے ماہانہ لاکھوں روپے مالیت کی لکڑی مبینہ طور پر کاٹ کر فروخت کی جا رہی ہے جبکہ محکمہ خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔دوسری جانب پارک میں سیکیورٹی کے انتہائی ناقص انتظامات کے باعث متعدد شہریوں کی موٹر سائیکلیں چوری ہونے کے واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں۔ بڑھتی ہوئی وارداتوں اور خوفناک صورتحال کے باعث شہری اور سیاح اس تفریحی مقام کا رخ کرنے سے گریزاں ہیں۔ پارک میں جھولے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، صفائی کا نظام تباہ ہو چکا ہے، واش رومز ناقابل استعمال ہیں جبکہ پینے کے صاف پانی کی سہولت بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ کبھی بہاولپور کی پہچان سمجھے جانے والا لال سونہارا نیشنل پارک آج مبینہ کرپشن، نااہلی اور غفلت کی بدترین مثال بن چکا ہے۔ شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف کنزرویٹر فاریسٹ، سیکرٹری جنگلات اور اینٹی کرپشن حکام سے فوری تحقیقات، مالی بے ضابطگیوں کا آڈٹ اور ذمہ دار افسران و اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ جنوبی پنجاب کے اس قومی ورثے کو مکمل تباہی سے بچایا جا سکے اس سلسلے میں وجیہہ الحسن بلاک افسر سے جب موقف لیا گیا تو انہوںنے بتایا تمام تر الزامات بے بنیاد ہیں۔ پارک کی حالت بہتر کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے انشاءاللہ بہت جلد تبدیلی نظر آئے گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں