ملتان (سٹاف رپورٹر) وفاقی محتسب برائے ہراسمنٹ نے پیٹرنیٹی اینڈ میٹرنٹی لیو ایکٹ 2023 پر عمل درآمد کرتے ہوئے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ایک ملازم کی درخواست پر سٹیٹ بینک کے خلاف پیٹرنیٹی لیو کے بارے میں فیصلہ سناتے ہوئے 5 لاکھ روپے جرمانہ اور والد کو بھی بچے کی پیدائش پر ایک ماہ کی تنخواہ کے ساتھ چھٹیاں دینے کی ہدایات جاری کر دیں۔ دستاویزات کے مطابق سید باسط علی نامی ایک ملازم نے اپنے بیٹے کی پیدائش پر قانونی حق کے تحت 30 دن کی پیٹرنٹی لیوکی درخواست دی تاہم متعلقہ افسران نے اسے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ ادارے کی پالیسی میں ایسی کوئی سہولت موجود نہیں۔ حیران کن طور پر یہ انکار اس وقت کیا گیا جب میٹرنٹی اینڈ پیٹرنٹی لیو ایکٹ 2023 واضح طور پر ایسے حقوق فراہم کرتا ہے۔ متاثرہ ملازم نے انصاف کے حصول کے لیے ادارے کے اندر تمام دروازے کھٹکھٹائے۔ای میلز، شکایتی کمیٹیاں حتیٰ کہ گورنر سٹیٹ بینک تک درخواست دی مگر ہر سطح پر خاموشی یا ٹال مٹول کا رویہ اپنایا گیا۔ یہ طرز عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ادارے کے اندر احتساب کا نظام یا تو غیر فعال ہے یا جان بوجھ کر دبایا جا رہا ہے۔ جواب میں سٹیٹ بینک کے حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ ان پر وفاقی حکومت کے قواعد لاگو نہیں ہوتے کیونکہ وہ ایک خودمختار ادارہ ہیں۔ تاہم قانونی ماہرین کے مطابق یہ دلیل نہ صرف کمزور ہے بلکہ ماضی کے عدالتی فیصلوں سے متصادم بھی ہےجہاں سٹیٹ بینک خود کو حکومتی کنٹرول کے تحت ظاہر کرتا رہا ہے۔ یہاں سب سے بڑا سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ جب فائدہ ہو تو حکومتی ادارہ اور جب ذمہ داری آئے تو خودمختاری؟ وفاقی محتسب برائے ہراسگی نے اس معاملے کو نہ صرف قابل سماعت قرار دیا بلکہ اسے حتمی فیصلے کے لیے بھی منظور کیاجس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ معاملہ محض انتظامی نہیں بلکہ بنیادی انسانی اور قانونی حقوق کی خلاف ورزی سے جڑا ہوا ہے۔ قانونی ٹیم نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ کیس صرف ایک ملازم کا نہیں بلکہ کام کی جگہ پر صنفی مساوات کا بھی ہے۔ اگر خواتین کو میٹرنٹی لیو مل سکتی ہے تو مردوں کو پیٹرنیٹی لیو سے محروم کرنا کھلی امتیازی پالیسی ہےجو آئین اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے بھی خلاف ہے۔ کیا سٹیٹ بینک جیسے حساس ادارے میں قوانین کی کھلی خلاف ورزی معمول بن چکی ہے؟ کیا اعلیٰ افسران اپنی مرضی سے قوانین کو نظر انداز کر سکتے ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر اگر ایک ملازم کو اس کا بنیادی حق نہیں مل سکتا تو عام شہری کے لیے انصاف کہاں ہے؟ یہ کیس محض ایک چھٹی کی درخواست کا نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی عکاسی کرتا ہے جہاں طاقتور ادارے خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگے ہیں۔ وفاقی محتسب کا فیصلہ اس نظام کے خلاف ایک اہم قدم ضرور ہے، مگر اصل امتحان یہ ہے کہ کیا اس کے بعد بھی ایسے رویے جاری رہتے ہیں یا واقعی اصلاح کی کوئی سنجیدہ کوشش کی جاتی ہے۔ یہ معاملہ اب ایک مثال بن چکا ہے کہ یا تو قانون کی بالادستی قائم ہوگی، یا ادارہ جاتی طاقت ہر اصول کو روندتی رہے گی۔







