بابر اعظم کی ٹی ٹوئنٹی کپتانی میں واپسی کے امکانات معدوم

پاکستان سپر لیگ 11 میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 588 رنز بنانے والے بابر اعظم نے فخر زمان کا ریکارڈ برابر کیا جبکہ ان کی قیادت میں پشاور زلمی نے ٹائٹل بھی جیت لیا، جس کے بعد ایک بار پھر ان کی قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی کپتانی میں واپسی کی چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں۔
تاہم ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ اس وقت سلمان علی آغا کی جگہ بابر اعظم کو دوبارہ ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت دینے پر غور نہیں کر رہا۔ بورڈ کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ فی الحال تمام توجہ ٹیسٹ کرکٹ اور آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ میں بہتر نتائج پر مرکوز ہے، جبکہ ٹی ٹوئنٹی ٹیم سے متعلق فیصلے بعد میں کیے جائیں گے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ جدید ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں نوجوان اور جارحانہ انداز اپنانے والے کھلاڑیوں کو ترجیح دی جا رہی ہے، اسی سوچ کے تحت نئے ٹیلنٹ کو زیادہ مواقع دینے پر زور دیا جا رہا ہے۔ ماضی میں وائٹ بال کوچ مائیک ہیسن بھی بابر اعظم کو مختصر فارمیٹ میں شامل کرنے کے حوالے سے مختلف آراء رکھتے تھے، اگرچہ بعد میں انہیں ورلڈ کپ اسکواڈ کا حصہ بنایا گیا۔
ورلڈ کپ 2024 میں بابر اعظم کی کارکردگی بھی توقعات کے مطابق نہ رہی، جہاں انہوں نے 6 میچز میں صرف 91 رنز اسکور کیے جبکہ ٹیم بھی متاثر کن کھیل پیش نہ کر سکی۔ یہی وجہ ہے کہ صرف پی ایس ایل کی کامیابی کی بنیاد پر انہیں دوبارہ کپتان بنانا آسان فیصلہ نہیں سمجھا جا رہا۔
اگرچہ بابر اعظم کا مجموعی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل اسٹرائیک ریٹ 128 ہے، لیکن پی ایس ایل 11 میں انہوں نے تقریباً 146 کے اسٹرائیک ریٹ سے بیٹنگ کر کے ناقدین کو جواب دیا۔
یاد رہے کہ بابر اعظم نے آخری بار ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2024 میں پاکستان ٹیم کی قیادت کی تھی، جس کے بعد محمد رضوان اور پھر سلمان علی آغا نے کپتانی سنبھالی۔
سلمان علی آغا کی قیادت میں پاکستان ٹیم نے 50 میں سے 31 میچز جیتے، تاہم ان کی ذاتی بیٹنگ کارکردگی زیادہ متاثر کن نہ رہی۔ دوسری جانب بابر اعظم کی کپتانی میں قومی ٹیم نے 85 میں سے 48 کامیابیاں حاصل کی تھیں۔
پاکستان ٹیم کی اگلی ٹی ٹوئنٹی اسائنمنٹ اکتوبر میں سری لنکا کے خلاف تین میچز کی سیریز ہوگی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں