ڈیرہ میں المناک سانحہ، نجی سکول کی چھت گرنے سے 4 بچے جاں بحق، 16 طلبہ، ٹیچرز سمیت 20 زخمی

ڈیرہ غازی خان (امین کھلول سے) مجرمانہ غفلت کا خوفناک انجام، نجی سکول کی چھت گرنے سے 4 معصوم بچیاں جاں بحق، 16طلبہ، ٹیچرز سمیت 20 افراد زخمی ہوگئےجنہیںہسپتال منتقل کردیاگیا، دلخراش سانحے نے پورے شہر کو سوگ میں ڈبو دیا۔تفصیل کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں مبینہ غفلت، ناقص تعمیرات اور انسانی جانوں سے کھیلنے کی سنگین لاپروائی کے باعث نجی سکول لٹل سکالرز کی چھت زمیں بوس ہو گئی۔ افسوسناک حادثے کے نتیجے میں 4 معصوم بچےجاں بحق جبکہ متعدد بچے زخمی ہو گئے۔ جاں بحق طلبہ میں 7سالہ عبداللہ ولدرب نواز،5سالہ میسن فاطمہ ولدمحمدفہیم،7سالہ غانیہ اوردعافاطمہ شامل ہیں۔زخمیوں میں 7سالہ طالبہ ام ہانی ولدسیدعزادارحسین شاہ ،8سالہ شیرعلی ولدحبیب الرحمان،7سالہ نورحرم ولدمحمدعمران جمیل،5سالہ شجیحہ ولدشکیل احمد،طالبعلم عدنان ولدیاسرعباس،7سالہ محمدعارش ولدثنااللہ،8سالہ عمیمہ جبار ولدعبدالجبار،محمدعفان ولدمحمدعدنان،محمداذلان ولدیاسرعباس،کبیرقادرولدعبدالقادر، بدرمدین ،ماہامرتضیٰ،عمیمہ زبیر،9سالہ شجیراحمد،طالبہ ماریہ،26سالہ ٹیچرصائمہ D/O صادق احمد،،26سالہ ٹیچرسدرہ رفیق،مزدورثنااللہ،30سالہ مزدورممتازاحمدشامل ہیں۔ ریسکیو 1122 کے مطابق امدادی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں اور مجموعی طور پر 24 بچوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا جن میں 4 بچے جان کی بازی ہار گئے۔ زخمی بچوں میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جبکہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ ذرائع کے مطابق جس عمارت میں یہ حادثہ پیش آیا اس کے ساتھ ہی اسی سکول مالک کی زیرِ تعمیر نئی عمارت موجود تھی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زیرِ تعمیر عمارت کا بھاری اور خستہ حال تعمیراتی میٹریل سکول کی پرانی عمارت کی چھت پر رکھا گیا تھا، جس کے باعث کمزور چھت اضافی وزن برداشت نہ کر سکی اور اچانک گر گئی۔ حادثے کے وقت کلاس رومز میں معصوم طلبہ موجود تھےجو پل بھر میں ملبے تلے دب گئے۔ حادثے کے فوری بعد علاقے میں قیامت صغریٰ کا منظر دیکھنے میں آیا۔ والدین چیختے پکارتے اپنےبچوں کو تلاش کرتے رہے جبکہ ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر کئی گھنٹوں تک سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری رکھا۔ ملبے سے زخمی بچوں کو نکال کر فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ جاں بحق ہونے والی بچیوں کی لاشیں دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے اس سانحے کو کھلی مجرمانہ غفلت قرار دیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ، بلڈنگ کنٹرول اداروں اور محکمہ تعلیم کی کارکردگی پر شدید سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر سکول عمارت کی بروقت جانچ پڑتال کی جاتی، حفاظتی اصولوں پر عمل درآمد کروایا جاتا اور خستہ حال تعمیراتی میٹریل بچوں کے سروں پر نہ رکھا جاتا تو آج یہ معصوم جانیں ضائع نہ ہوتیں۔ شہریوں نے ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان، محکمہ تعلیم، بلڈنگ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں سے فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکول مالک اور اس غفلت میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی تعلیمی ادارے میں بچوں کی جانوں سے کھیلنے کی جرات نہ ہو سکے۔ یہ سانحہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ انتظامی نااہلی، ناقص نگرانی اور انسانی جانوں سے بے حسی کی بدترین مثال بن چکا ہےجس نے کئی خاندانوں سے ان کی خوشیاں چھین لی۔دریں اثنا ڈیرہ غازی خان میں دی لٹل سکالر سکول کے کلاس روم کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعہ کے فوراً بعد آر پی او ڈیرہ غازی خان محمد اظہر اکرم اور کمشنر اشفاق احمد چوہدری جائے حادثہ پر پہنچ گئے، انہوں نے ریسکیو 1122، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری امدادی سرگرمیوں اور ریسکیو آپریشن کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر آر پی او اور کمشنر نے امدادی کارروائیاں ہنگامی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ بعد ازاں آر پی او اور کمشنر نے ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ غازی خان کا دورہ کیا جہاں انہوں نے زخمی بچوں کی عیادت کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔ اس موقع پر ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی خصوصی ایمرجنسی ڈیوٹیاں لگا کر ہائی الرٹ جاری کیا گیا۔اس افسوسناک سانحے پر شہر بھر میں سوگ کا سماں ہے اور آج بروز جمعہ تعلیمی اداروں میں یومِ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین ضیاء السلام قریشی، ضلعی چیئرمین خورشید خان تالپور، ضلعی صدر سردار محمد اسلم چانڈیہ ایڈووکیٹ اور ضلعی جنرل سیکرٹری محمد سلیم نے مشترکہ بیان میں اس واقعے کو شہر کے لیے غم کا بڑا دن قرار دیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے معصوم طلباء کی شہادت پرآج بروز جمعہ سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ گزشتہ روزبھی تمام تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں ۔ رہنماؤں نے سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت کسی پر الزام تراشی کا نہیں بلکہ غمزدہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا ہے۔ انہوں نے زخمی طلباء اور اساتذہ کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کی جانب سے واقعے کی تحقیقات اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ شہر کی فضا سوگوار اور ہر طبقہ فکر اس سانحے پر نڈھال ہے۔کمشنر اشفاق احمد چوہدری نے واقعے کی فوری انکوائری کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اس افسوسناک سانحے کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔بعد ازاں کمشنر، آر پی او اور ڈپٹی کمشنر نے ٹیچنگ اسپتال کا دورہ کیا جہاں انہوں نے زخمی بچوں کی عیادت کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔ دریں اثنا پولیس نے سکول مالکان کیخلاف مقدمہ درج کرلیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں