ملتان (قوم ریسرچ سیل) کرپشن اور لاقانونیت میں بری طرح لتھڑی ہوئی زکریا یونیورسٹی کی انجینئرنگ برانچ اور سولر سسٹم نصب کرنے والی کمپنی الجابر انرجی سروسز کی مبینہ ملی بھگت سے جہاں ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود سولر پینل کی تنصیب نہ ہو سکی وہیں پر ٹھیکیدار کمپنی اور ایکسین محمد علی کھوکھر کی ملی بھگت کے ذریعے فراڈ ، دھوکا دہی اور مالی بے ضابطگی کا ایک اور ثبوت سامنے آ گیا ہے۔ بینک اسلامی کی طرف سے دو کروڑ 39 لاکھ 20 ہزار 173 روپے کی بینک گارنٹی بھی جعلی نکل آئی۔ بینک اسلامی کالج روڈ لاہور کےمنیجر نے تحریری طور پر لکھ کر دے دیا کہ جو بینگ گارنٹی ٹھیکے دار کمپنی کی طرف سے پیش کی گئی ہے ان کی برانچ اور بینک میں ایسی کسی گارنٹی کا وجود نہیں ہے اس حوالے سے جو جملہ لکھا گیا ہے وہ کچھ اس طرح سے ہے۔( No such guarantee exist in our branch)۔ حیران کن امر یہ ہے کہ زکریا یونیورسٹی کی انجینئرنگ برانچ اس جعلی بینک گارنٹی کو وصول کرنے کے بعد اس کی تصدیق کروانے کے معاملے میں ٹھیکیدار کی معاونت کرتی رہی اور بینک گارنٹی کی تصدیق کیے بغیر ہی ٹھیکے دار کو منظوری کا لیٹر جاری کر دیا گیا۔ ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ انجینئرنگ برانچ نے ٹھیکے دار کمپنی کی مزید سہولت کاری کرتے ہوئے انہیں 42 لاکھ روپے کی سکیورٹی کی رقم بھی واپس کر دی جس پر یونیورسٹی کے خزانہ دار ، ٹھیکیدار اور انجینئرنگ برانچ کے ایکسین کے درمیان بحث و تکرار بھی ہوئی اور یونیورسٹی کے ایکسیین ادارے کے بجائے ٹھیکے دار کے مفادات کا تحفظ کرتے رہے اور خزانہ دار پر دباؤ ڈالا گیا کہ الجابر انرجی سروسز نامی کمپنی کو جو چیک جاری کیا گیا ہے اسے ہر صورت میں بغیر کسی کٹوتی کے کیش کیا جائے لیکن خزانہ دار اپنے موقف پر ڈٹ گئے اور کہا کہ 42 لاکھ روپے کی سکیورٹی کی رقم وہ ہر صورت میں کاٹیں گے۔ خزانہ دار نے غیر قانونی کام سے انکار کرتے ہوئے چیک میں سے سکیورٹی کی مد میں آدھی رقم کاٹ لی اور کہا کہ سکیورٹی کی باقی رقم 21 لاکھ روپے وہ دوسرے چیک کے اجرا کے موقع پر کاٹیں گے۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ موقع پر سولر سسٹم کی چند پلیٹیں لگا کر کام بند کر دیا گیا ہے اور پلیٹوں کے لیے جو فریم ورک کیا گیا ہے اس کی تمام تر مزدوری یونیورسٹی کے ملازمین سے جبری مشقت کروا کر ٹھیکے دار کے کھاتے میں ادائیگیاں کر دی گئیں۔ یونیورسٹی کے نچلے درجے کے ملازمین سے یہ اضافی مزدوری جبری طور پر لی گئی اور انہیں معاوضہ بھی نہیں دیا گیا۔ اس سلسلے میں یونیورسٹی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالستار ملک سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ بات جونہی ان کے نوٹس میں آئی انہوں نے وائس چانسلر کو آگاہ کیا اور اس سلسلے میں جمعرات کے روز یونیورسٹی میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ ہوئی جس میں وائس چانسلر نے حکم دیا کہ ٹھیکیدار کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی جائے اس موقع پر ایک کمیٹی بنا دی گئی ہے جو جائزہ لے گی کہ موقع پر کتنا کام موجود ہے اور ٹھیکیدار کو کتنی ادائیگی ہو چکی ہے۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر عبد الستار ملک نے تسلیم کیا کہ سی ڈی آر کسی بھی صورت میں واپس نہیں ہونی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایکسین سول اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ موقع پر کتنا کام ہوا ہے اور وہ جلد اپنی رپورٹ وائس چانسلر کو پیش کریں گے۔







