واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں جاری “پروجیکٹ فریڈم” کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کر کے عالمی سطح پر حیرت پیدا کر دی ہے۔ اس فیصلے کو ایران کے ساتھ ایک ممکنہ تاریخی معاہدے کی طرف اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ پاکستان سمیت مختلف ممالک کی درخواستوں اور ایران کے خلاف حالیہ فوجی کارروائیوں میں پیش رفت کے بعد یہ اقدام کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق ایران کے نمائندوں کے ساتھ ایک جامع اور حتمی معاہدے کے لیے نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے بتایا کہ فیلڈ مارشل نے فریقین کو مذاکرات کی میز تک لانے میں اہم کردار ادا کیا اور خطے میں امن کے لیے ان کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔ اسحاق ڈار نے بھی اس عمل میں بھرپور سفارتی کاوشیں کیں۔
مزید بتایا گیا کہ امریکا اور ایران کی قیادت پاکستان کی دعوت پر اسلام آباد آئی، جہاں 1979 کے بعد پہلی مرتبہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات ہوئے۔
وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ امت کو تقسیم کرنے والے اور دہشت گردی میں ملوث عناصر کسی صورت مسلمان کہلانے کے لائق نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کشمیر اور فلسطین کے معاملے پر اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے اور جب تک کشمیریوں اور فلسطینیوں کو ان کا حق نہیں مل جاتا، پاکستان ان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔







