لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر محکمہ داخلہ میں علمائے کرام سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلے میں سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی سے مسلم لیگ (ن) علماء و مشائخ ونگ کے وفد نے ملاقات کی۔
وفد کی قیادت صدر علماء و مشائخ ونگ ڈاکٹر مفتی انتخاب احمد نوری نے کی جبکہ جنرل سیکرٹری حافظ محمد امجد، صاحبزادہ محمد آصف سیال، احسان الحق صدیقی، طیب شاہ قادری، آصف معصومی، حافظ ایوب اعوان، سید عرفان گیلانی، مولانا اسلم ندیم، حافظ رضوان عابد اور میر عمران رؤف بھی ملاقات میں شریک تھے۔
اس موقع پر اسپیشل سیکرٹری داخلہ فیصل فرید، ڈاکٹر طاہر رضا بخاری، ڈی جی اوقاف حافظ انیس الرحمن، ڈی سی او سینٹر آف ایکسیلینس ڈاکٹر احمد خاور، ایڈیشنل سیکرٹری عبدالرؤف سمیت دیگر حکام بھی موجود تھے۔
ملاقات میں صوبے کی امن و امان کی صورتحال اور اتحاد بین المسلمین کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کہا کہ پنجاب میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ منشیات سے پاک معاشرے کے قیام کے لیے عوامی آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے، جبکہ آئمہ مساجد اور علماء کرام کو خطبات جمعہ میں منشیات کے خاتمے سے متعلق پیغام دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سیکرٹری داخلہ نے مزید کہا کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر کسی کالعدم تنظیم کو قربانی کی کھالیں جمع کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، صرف پنجاب چیریٹی کمیشن سے رجسٹرڈ ادارے ہی کھالیں اکٹھی کر سکیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب تعلیم کے فروغ کے لیے لٹریسی پروگرام پر کام کر رہی ہے، جبکہ جیلوں میں موجود ناخواندہ افراد کو بھی اس پروگرام کے تحت تعلیم دی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پرتشدد انتہا پسندی کے خاتمے میں علماء کرام کا کردار انتہائی اہم ہے۔ حکومت پنجاب نے آئمہ مساجد کے لیے 21 ارب روپے کا تاریخی منصوبہ شروع کیا ہے جس کے تحت اب تک 6 ارب روپے اعزازیہ کی صورت میں تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
ڈاکٹر مفتی انتخاب احمد نوری نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا آئمہ کرام کے لیے اعزازیہ پروگرام ایک قابلِ تحسین اور تاریخی اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس میں تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جا رہا ہے اور حکومت کی اتحاد بین المسلمین کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کے فروغ کے لیے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھا جائے گا۔ ملاقات کے اختتام پر ملک و قوم اور امت مسلمہ کی ترقی و خوشحالی کے لیے دعا بھی کی گئی۔







