ملتان (سٹاف رپورٹر) پنجاب کی اعلیٰ تعلیم کے نظام میں ایک نیا اور نہایت تشویشناک رجحان سامنے آ رہا ہے جہاں جامعات کے وائس چانسلرز کو مستقل پالیسی اور میرٹ کے بجائے محض’’ادلا بدلی‘‘کے تحت ایک ادارے سے دوسرے ادارے میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ حالیہ مثال یونیورسٹی آف گجرات کے وائس چانسلر ڈاکٹر ظہور الحق کی ہےجنہیں محض ڈیڑھ سال بعد ہی یونیورسٹی آف رسول کا ریگولر وائس چانسلر بنا دیا گیا۔ایک ایسا فیصلہ جس نے تعلیمی حلقوں میں حیرت، تشویش اور شدید تنقید کو جنم دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ڈاکٹر ظہور الحق کو گجرات یونیورسٹی میں ایسا کون سا کام کرنے سے روکا گیا تھا جو اب وہ رسول یونیورسٹی میں جا کر کریں گے؟ اگر ان کے اہداف، ویژن اور ذمہ داریاں وہی تھیں تو پھر ایک ادارے کو ادھورا چھوڑ کر دوسرے ادارے کا چارج دینا کس پالیسی کے تحت کیا جا رہا ہے؟ یہ صورتحال نہ صرف غیر منطقی دکھائی دیتی ہے بلکہ سرچ کمیٹیوں اور محکمہ ہائر ایجوکیشن کی کارکردگی پر بھی بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔حیران کن امر یہ ہے کہ ایک طرف وائس چانسلر کی تعیناتی کے لیے مہینوں بلکہ سالوں پر محیط پیچیدہ پراسس اختیار کیا جاتا ہےجبکہ دوسری جانب انہی تقرریوں کو ڈیڑھ سال کے اندر ہی تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ یہ تضاد اس پورے نظام کو مشکوک بناتا ہے اور یہ تاثر دیتا ہے کہ شاید تقرریاں کسی طویل المدتی تعلیمی حکمت عملی کے بجائے وقتی مفادات کے تحت کی جا رہی ہیں۔ یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل محمدنوازشریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈٹیکنالوجی ملتان کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد کامران کو بھی محض قلیل مدت کے بعد اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور منتقل کر دیا گیا تھا۔ سوال وہی ہے: کیا ان کی کارکردگی واقعی اتنی غیر معمولی تھی یا پھر یہ محض ایک مخصوص گروہ کو مختلف جامعات میں’’گردش‘‘ کروانے کی پالیسی ہے؟ ذرائع کے مطابق ان تبادلوں کے پیچھے مختلف نوعیت کی دلچسپیاں بھی کارفرما نظر آتی ہیں۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر محمد کامران کی دلچسپی ایک نسبتاً چھوٹی یونیورسٹی سے بڑی، وسائل سے بھرپور یونیورسٹی کی جانب رہی جبکہ ڈاکٹر ظہور الحق کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان کی توجہ نئی بننے والی یونیورسٹی آف رسول کے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر مرکوز ہے۔ اگر یہ بات درست ہے تو یہ معاملہ محض تعلیمی نہیں بلکہ مالی مفادات کی بو بھی دیتا ہے۔ ان فیصلوں کا سب سے بڑا نقصان خود جامعات کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ جب ایک وائس چانسلر اچانک تبدیل ہوتا ہے تو ادارہ انتظامی بحران کا شکار ہو جاتا ہے۔محمدنوازشریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈٹیکنالوجی ملتان اس کی واضح مثال ہے، جہاں تقریباً نو ماہ تک ایڈیشنل چارج کے تحت نظام چلتا رہا اور پالیسی سازی مکمل طور پر جمود کا شکار رہی۔ یہی خطرہ اب یونیورسٹی آف گجرات کو بھی لاحق ہے، جہاں ایک بار پھر ایڈیشنل چارج کلچر کے تحت معاملات چلنے کا خدشہ ہے۔ یہ امر بھی نہایت افسوسناک ہے کہ ایڈیشنل چارج رکھنے والے وائس چانسلرز کو روزمرہ امور کے علاوہ کسی بڑی پالیسی یا اصلاحاتی اقدام کی اجازت نہیں ہوتی جس کے نتیجے میں ادارے ترقی کے بجائے تنزلی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کب تک پنجاب کی جامعات کو تجربہ گاہ بنا کر ان پر ایسے فیصلے مسلط کیے جاتے رہیں گے؟ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر اس’’ وی سی گردش کلچر‘‘کو نہ روکا گیا تو پنجاب کی جامعات نہ صرف انتظامی طور پر کمزور ہوں گی بلکہ ان کا تعلیمی معیار بھی شدید متاثر ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سرچ کمیٹیاں اور محکمہ ہائر ایجوکیشن شفافیت، میرٹ اور طویل المدتی پالیسیوں کو ترجیح دیںنہ کہ وقتی اور مبہم فیصلوں کے ذریعے اعلیٰ تعلیم کے نظام کو مزید بحران میں دھکیلیں۔







