ملتان( خصوصی رپورٹر،وقائع نگار) بہاالدین زکریا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر طاہر اشرف کے خلاف اینٹی کرپشن نے بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور ہراسگی کے الزامات کے تحت انکوائری کی منظوری دیدی تفصیل کے مطابق بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات (آئی آر ) کے پروفیسر ڈاکٹر طاہر اشرف کے خلاف کرپشن، اخلاقی بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے سنگین الزامات کے تحت اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے انکوائری نمبر 25-1989 کے تحت نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں ریکارڈ سمیت پیش ہونے کا حکم دیا تھا ہے۔ ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب نے ڈاکٹر طاہر اشرف کے خلاف باقاعدہ انکوائری کی منظوری دی ہے ،لیٹر نمبر DAC-11394،جس کے بعد اینٹی کرپشن ملتان ریجن نے زیر دفعہ 160 Cr.P.C کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو 21 مئی 2025 کو طلب کیا گیا تھا، یہ کارروائی یونیورسٹی انتظامیہ اور متاثرہ فریقین کی جانب سے دی گئی تفصیلی درخواست پر شروع کی گئی۔ان پر درخواست میں ڈاکٹر طاہر اشرف پر سنگین الزامات عائد کیے گئے، جن میں جنوری 2023 میں رخصت پر موجود دیگر اساتذہ کے دفاتر کے تالے توڑ کر دفتری سامان، ایگزیکٹو میزیں اور کرسیاں غیر قانونی طور پر اپنے قبضے میں لینے، 2017 میں شعبہ آئی آر میں داخلوں کے دوران ملی بھگت سے میرٹ پامال کر کے کم نمبروں والے پسندیدہ طالب علم شیراز زمان کو غیر قانونی داخلہ دلواناجبکہ اس کا اسکور میرٹ سے کہیں کم تھا،2024 میں منعقدہ پی ایچ ڈی امتحانات میں طالبات کے نمبروں میں ٹمپرنگ اور ردو بدل کرنے کے الزامات شامل ہیں ،ایم فل سیشن 22-2020 کی ایک طالبہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ڈاکٹر طاہر اشرف نے انہیں تنہائی میں ملنے پر مجبور کیا اور انکار پر ریسرچ تھیسز میں رکاوٹیں کھڑی کر کے مسلسل بلیک میل کیا جبکہ سرکاری ملازم ہونے کے باوجود فروری 2024 کے عام انتخابات میں حلقہ این اے 154 میں ایک مخصوص سیاسی جماعت کے حق میں انتخابی مہم چلانے اور ریلیاں نکالنے کا الزام بھی عائد جو کہ سروس رولز کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ سالانہ خفیہ رپورٹ (ACR) جان بوجھ کر جمع نہ کروانا تاکہ محکمانہ ریکارڈ نامکمل رہے۔ درخواست گزار نے اینٹی کرپشن حکام سے استدعا کی ہے کہ ڈاکٹر طاہر اشرف کے ان اقدامات سے نہ صرف یونیورسٹی کی ساکھ متاثر ہوئی ہے بلکہ اساتذہ اور طلبہ میں بھی شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پیڈا ایکٹ 2006 کے تحت کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو فوری طور پر معطل کیا جائے اور ان کے مبینہ سہولت کاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔اینٹی کرپشن حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی شفاف انکوائری کی جا رہی ہے اور قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔







