شیخ زید ہسپتال، نوکری کا جھانسہ دیکر خاتون سے مبینہ زیادتی، ملزمان آزاد

رحیم یارخان( بیورورپورٹ ) تین صوبوں پنجاب ،سندھ اور بلوچستان کے سنگم پر واقع شیخ زید ہسپتال میں پرائیویٹ کمپنی انیس برادرجنیٹوریل سروس کے مالکان،پراجیکٹ منیجرز،پیٹی ٹھیکیدار اور سپروائزر خواتین کو نوکریوں کا جھانسہ دیکر مبینہ طورپرعزتیں پامال کرنے لگے،رحیم یارخان کے نواحی علاقہ تاجگڑھ کی رہائشی متاثرہ خاتون منظر عام پر آگئی،متاثرہ زینت حنیف کے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو بیان میں ہوشربا انکشافات،خاتون کے مطابق اس نے انیس برادرجنیٹوریل سروس کمپنی میں سپروائزر کیلئے اپلائی کیا تو مورخہ 23-01-2026کو بوقت دن 10 بجے پراجیکٹ منیجر راحیل یونس نے کال کرکے شیخ زید ہسپتال بلایا اور پھر جگنو چوک میں واقع دفتر کا کہہ کر ایک فلیٹ میں لیجا کر جبری زیادتی کا نشانہ بنایا اور ویڈیو ریکارڈ کرلی اور بلیک میل کرنا شروع کردیا اور مورخہ 27-02-2026کی رات 9 بجے دوبارہ ’’کام سمجھانے‘‘کا کہہ شیخ زید ہسپتال اور انیس برادرجنیٹوریل سروس کمپنی کے دفتر میں زیادتی و بدفعلی کا نشانہ بنایا اور ویڈیو بھی ریکارڈکرتا رہا ،کمپنی کے مالکان ،ٹھیکیداران سے شکایت تو انہوں نے معاملے کو سیریس لینے کی بجائے کام نکال دیا جس پر تھانہ اے ڈویژن میں درخواست گزاری تو پولیس نے فوری مقدمہ کا اندراج تو کرلیا مگر 4 ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود ملزمان کو گرفتار کرنے کی بجائے لیت لعل سے کام لے رہی ہے،متاثرہ خاتون کے مطابق ملزمان نے ابھی تک عدالتوں سے عبوری ضمانتیں بھی نہ کروائی ہیں۔متاثرہ خاتون کے مطابق ملزم راحیل یونس ویڈیو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے کی دھمکی دیکر کہہ رہا ہے۔متاثرہ خاتون زینت حنیف نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، آئی جی پنجاب پولیس ،حنا پرویز بٹ چیئرپرسن وومن پروٹیکشن اتھارٹی،سربراہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ سہیل ظفر چٹھہ آر پی او بہاولپور ، ڈی سی اورڈی پی او رحیم یار خان سےنوٹس لینےکی اپیل ہے ۔اس حوالے سے موقف جاننے کیلئے جب انیس برادر جینٹیوریل سروس کے پراجیکٹ منیجر اور ایف آئی آر میں درج نامزد ملزم راحیل یونس سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے یہ کہہ کر فون کال کاٹ دی کہ خاتون بلیک میل کرکے کمپنی میں مزید خواتین بھرتی کروانا چاہتی تھی انکار پر جھوٹا پراپیگنڈہ کررہی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں