ملتان (سوشل رپورٹر) شہر اولیا میں دھوکا بازوں اور فراڈیوں نے عوام کو لوٹنے کا ایک نیا طریقہ کار اپنا لیا ہے۔ ان نوسربازوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور آن لائن قرضوں کے جھانسے دے کر سادہ لوح شہریوں کو ٹھگنا شروع کر دیا ہے۔ متاثرہ افراد کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے، لیکن اب تک کسی بھی متاثرہ شخص کو انصاف نہیں مل سکا ہے۔ایک متاثرہ شہری نے وائس میسیج میں اپنے ساتھ ہونے والی فراڈ کی پوری داستان سنائی ہے۔ اس شہری کے مطابق ایک شخص نے اس سے رابطہ کیا اور دعویٰ کیا کہ اس کے پاس بینظیر انکم سپورٹ ڈیوائسز ہیں اور وہ لوگوں کو آن لائن قرضے دلاتا ہے۔ اس فراڈی نے شہری کو یقین دلایا کہ وہ اس کے لیے آسانی سے قرضہ منگوادے گا، بس کچھ دستاویزات اور تھوڑی سی فیس درکار ہے۔شہری نے بتایا کہ اس شخص نے مجھے کہا کہ دستاویزات دو، میں قرضے کے لیے اپلائی کروں گا۔ میں نے اسے دستاویزات دے دیں۔ اس نے مجھے بتایا کہ فیس پانچ ہزار روپے ہے اور میں نے اسے پانچ ہزار روپے دے دیے۔ چند روز بعد اس نے مجھے دوبارہ فون کیا اور کہا کہ مزید پانچ ہزار روپے دو، تب جا کر قرضے کی درخواست مکمل ہوگی۔پھر اس نے مجھے قادر پور راں بلایا۔ وہاں کوئی نہیں تھا، صرف میں اور میری بیوی تھے۔ ہم وہاں بیٹھ گئے۔ وہ دو منٹ کے لیے آیا اور کہا کہ کام ہو گیا ہے، تم گھر جا سکتے ہو۔ میں گھر آ گیا۔ تقریباً پانچ ماہ سے اس کے پیچھے لگا ہوںلیکن وہ ٹال مٹول کرتا رہا۔ اس نے کہا کہ اپلائی ہو چکا ہے، بس کوئی افسر نہیں آ رہا۔ میں نے ٹھیک ہے کہا، لیکن لوگوں نے مجھے بتایا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے، اس نے کچھ نہیں کیا۔مشکوک ہونے پر شہری نے متعلقہ دفتر جا کر اپنا شناختی کارڈ دکھایا تو اہلکاروں نے بتایا کہ اس نام سے کوئی درخواست ہی جمع نہیں کرائی گئی۔ شہری نے جب فراڈی سے اپنے دستاویزات واپس لیے تو اس نے پانچ ہزار روپے تو واپس کر د یئے لیکن باقی پانچ ہزار روپے دینے سے انکار کر دیا۔ شہری نے بتایا کہ جب اس نے باقی رقم مانگی تو فراڈی نے کہا کہ اس کے پاس پیسے نہیں ہیں اور جا کر جو کرنا ہے کر لو۔متاثرہ شہری نے کمشنر ملتان اور ڈپٹی کمشنر ملتان سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس شخص سے میرے پیسے واپس دلائیں۔ واضح رہے کہ اس قسم کے فراڈ کے واقعات ملتان میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں، نوسرباز بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، بے روزگار قرضوں اور دیگر سرکاری سکیموں کے نام پر سادہ لوح شہریوں سے پیسے وصول کرکے فرار ہو جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شہریوں کو چاہیے کہ وہ کسی بھی سرکاری اسکیم کے لیے درخواست دیتے وقت صرف مجاز حکام اور سرکاری دفاتر سے رجوع کریں، اور کسی بھی غیر سرکاری شخص کو ایڈوانس فیس دینے سے گریز کریں۔جب تک پولیس اور انتظامیہ ان نوسربازوں کے خلاف موثر کارروائی نہیں کرتی، سادہ لوح شہری ان جھانسے دینے والوں کا شکار بنتے رہیں گے۔ عوام سے اپیل ہے کہ وہ ہوشیار رہیں اور کسی بھے غیر مصدقہ ذریعے سے آن لائن قرضے یا سرکاری اسکیموں کے نام پر پیسے جمع نہ کروائیں، ورنہ نہ صرف ان کے پیسے ڈوبیں گے بلکہ ذاتی دستاویزات کے غلط استعمال کا بھی خطرہ ہے۔







