پی ٹی آئی پر دباؤ بڑھانے کا مطالبہ، علیمہ خان کا عمران خان کے علاج پر دوٹوک مؤقف

راولپنڈی میں اڈیالہ روڈ کے فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا ہے کہ وہ عمران خان کا علاج اہلِ خانہ کی موجودگی میں کروانا چاہتے ہیں، اور اس حوالے سے سیاسی جماعت پر لازم ہے کہ وہ بھرپور دباؤ ڈالے۔
انہوں نے واضح کیا کہ احمد نیازی کی جانب سے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو کوئی باقاعدہ کال نہیں دی گئی بلکہ صرف اپیل کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپیل صرف پارٹی عہدیداروں سے کی گئی ہے کیونکہ انہی سے رابطہ ممکن ہے، اور اگر سینئر قیادت موقع پر پہنچ جائے تو تنظیمی سرگرمیاں تیز ہو جاتی ہیں۔
علیمہ خان نے بتایا کہ چند ہفتے قبل اسی مقام سے 41 افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ منتخب نمائندوں کو تو چھوڑ دیا جاتا ہے لیکن عام کارکنوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی واحد توجہ بانی پی ٹی آئی کے مسئلے پر ہے، اور اس وقت سب سے اہم ضرورت ان کے علاج کی ہے جو ان کے مطابق Shifa International Hospital میں ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ عمران خان کا علاج اہلِ خانہ کی نگرانی میں ہو، اور سیاسی جماعت کو چاہیے کہ عدالتوں پر دباؤ ڈالے تاکہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر جلد سماعت ہو اور انہیں رہا کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ گزشتہ سات ماہ سے قید تنہائی میں ہیں، اور جب عدالتیں اپنا کردار ادا نہ کریں اور حکومت خاموش رہے تو ایسے میں سیاسی جدوجہد کے تحت دباؤ ڈالنا اور مزاحمت کرنا ہی واحد راستہ رہ جاتا ہے، جس کی اجازت آئین بھی دیتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں علیمہ خان نے کہا کہ گرینڈ حیات میں عمران خان کا اپارٹمنٹ پہلے ہی فروخت ہو چکا تھا، جبکہ ان کا اپنا اپارٹمنٹ بھی منسوخ کر دیا گیا اور ان کی ادائیگی کی گئی رقم واپس نہیں کی گئی۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ارکانِ پارلیمنٹ اور سینیٹرز بھی اس معاملے میں آگے آئیں گے، تاکہ حکومت پر دباؤ بڑھایا جا سکے اور عمران خان کے علاج، ضمانتوں کی سماعت اور رہائی کو ممکن بنایا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں