بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتوں میں رکاوٹیں، صحت پر تشویش برقرار، بیرسٹر گوہر کا اہم بیان

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے اڈیالہ روڈ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اکتوبر سے ہر ہفتے ملاقات کے لیے جا رہے ہیں مگر مسلسل رکاوٹوں کا سامنا ہے اور ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی صحت کے حوالے سے صورتحال تشویشناک بنتی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ ملک کی بہتری چاہتے ہیں وہ ملاقاتوں میں رکاوٹیں پیدا نہیں کرتے، اگر ملاقاتیں ممکن ہوں تو یہ حق کی جدوجہد میں ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ کامیابیاں افواج پاکستان کی قربانیوں اور قوم کے اتحاد کی مرہون منت ہیں، جس نے ملک کے دفاع کو مزید مضبوط بنایا اور عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافہ کیا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ قوم کی یکجہتی نے ایک بڑے دشمن کو شکست دینے میں اہم کردار ادا کیا اور اب دشمن پاکستان کے خلاف کوئی قدم اٹھانے سے پہلے کئی بار سوچے گا۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی ایک حساس اور پیچیدہ معاملہ ہے جسے سنجیدگی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے موجودہ صورتحال کو “بند گلی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی ادارے ایک صفحے پر نظر آتے ہیں جبکہ میڈیا پیکا قوانین اور معاشی مسائل کے باعث مشکلات کا شکار ہے۔ ان کے مطابق عدلیہ ایک سال سے بانی اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی اپیلوں پر سماعت نہیں کر رہی، جو ایک اہم قانونی مسئلہ ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر القادر کیس میں مرکزی اپیلوں پر منفی فیصلہ آیا تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ انہوں نے عدالتوں سے اپیل کی کہ آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کیے جائیں اور معاملات کو مزید پیچیدہ نہ بنایا جائے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو عوام سے جدا نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کوئی طاقت انہیں سیاست سے باہر کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پارٹی ورکرز اور فیملی فوری نتائج چاہتے ہیں، قیادت اپنی پوری کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے پارٹی کے اندر اختلافات پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں سب کو متحد ہو کر آگے بڑھنا ہوگا اور ذاتی اختلافات کو وقتی طور پر نظر انداز کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بانی کی بہنوں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی انہوں نے کبھی ایسی خواہش ظاہر کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اندر غصہ اور مایوسی فطری ہے کیونکہ کارکنوں کو میدان میں کوئی واضح پیش رفت نظر نہیں آ رہی، تاہم امید ابھی بھی موجود ہے کہ حالات بہتر ہوں گے۔ انہوں نے حکومت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کیا جائے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ پارٹی کا عہدہ ان کے پاس ایک امانت ہے اور جب تک بانی کا اعتماد برقرار ہے وہ اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے، جبکہ پارٹی کی اصل قیادت بانی پی ٹی آئی ہی ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں