اسلام آباد،تہران،واشنگٹن(بیورورپورٹ، نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے نئی تجاویز کا مسودہ ثالثی کے لیے پاکستان کو بھیج دیا۔تجاویز پاکستانی حکومت امریکا کو ارسال کرے گی ، جواب واپس ایرانی حکومت کو بھیجا جائے گا۔وائٹ ہاؤس نے تبصرہ کرنے سے انکارکردیا۔ٹرمپ کا اختیار ختم ، ایران سے اور جنگ کرنی ہے یا نہیں؟ امریکی کانگریس آج فیصلہ کرے گی۔امریکا نےایرانی حکومت کے بیرون ملک پنشن فنڈز اکاؤنٹس منجمد کرنے پر غورشروع کردیا ،آبنائے ہرمز پر قبضے کیلئےنیا عالمی اتحاد بنانے کا منصوبہ تیارکیاجانےلگا۔ایران نے عرب ممالک سےہرجانہ ادا کر نیکامطالبہ کردیا ،آبنائے ہرمز بند، عالمی معیشت کا دم گھٹنے لگا ۔اقوام متحدہ نےبڑاانتباہ کردیا، برطانوی اخبار نےدعویٰ کیاہےکہ اسرائیل نے امارات کو جدید لیزر ڈیفنس سسٹم فراہم کیا،چینی و امریکی وزرائے خارجہ کاآپس میں رابطہ ہواہےجس میںمشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔تفصیل کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے نئی تجاویز کا مسودہ ثالثی کے لیے پاکستان کو بھیج دیا۔ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ بندی مذاکرات سے متعلق اپنی نئی تجاویز جمعرات کی شام پاکستان کے حوالے کی ہیں۔اب یہ تجاویز پاکستانی حکومت امریکا کو ارسال کرے گی جس کے بعد ان کا جواب دیکھا جائے گا اور آنے والا جواب واپس ایرانی حکومت کو بھیجا جائے گا۔اس حوالے سے تاحال فریقین کی جانب سے کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے اور نہ اس نئے مسودے سے متعلق کوئی معلومات مل سکی ہیں۔تاہم ایک امریکی خبر رساں ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی اس نئی تجویز میں مرحلہ وار امن عمل کی بات کی گئی ہے جس میں پہلے جنگ بندی کو مستحکم کرنا، پھر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور بعد ازاں پیچیدہ معاملات جیسے جوہری پروگرام کو زیر بحث لانا شامل ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ایران کی جانب سے پاکستان کو تجاویز پیش کرنے سے متعلق تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔غیر ملکی خبرایجنسی کے مطابق ایران کی جانب سے پاکستان کو تجاویز پیش کرنے سے متعلق سوال پر وائٹ ہاؤس نے جواب دیا ہے کہ ہم نجی سفارتی بات چیت کی تفصیل نہیں بتاتے، مذاکرات جاری ہیں۔ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا کہ امریکا کی مختصر اور طویل مدتی قومی سلامتی یقینی بنانے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ترجمان نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔دوسری جانب ایران سے اور جنگ کرنی ہے یا نہیں ؟صدر ٹرمپ کا اختیار ختم ہوگیا اور اب جنگ کے حوالے سے امریکی کانگریس آج فیصلہ کرے گی ۔قانون کے تحت امریکی صدر 60 دن میں جنگ کی ایوان سے اجازت لینے کا پابند ہے ۔ 60 دن کی ڈیڈلائن ختم ہوگئی ۔وائٹ ہاؤس کا دعویٰ ہے کہ عارضی جنگ بندی کی مدت نہ رکھنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ جنگ ختم ہوچکی ہے ۔ ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ 7 اپریل کو ایران اور امریکا کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کو بعد میں لامحدود مدت کے لیے بڑھا دیا گیا ۔ 7 اپریل کے بعد سے کوئی فائر نہیں ہوا۔خبر ایجنسی کے مطابق امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوگئی ، جنگ بندی کے بعد سے دونوں ملکوں میں کوئی جھڑپ نہیں ہوئی۔ وار پاورز ایکٹ کے حوالے سے 28 فروری کو شروع ہونے والی لڑائی اب ختم ہو چکی ہے ، اس لیے امریکی صدر کو کانگریس کی منظوری کی ضرورت نہیں۔دوسری جانب امریکی وزیرجنگ پیٹ ہیگستھ نےکہا ہے کہ ایران سے جنگ کب ختم ہوگی؟ اور کب کانگریس سے منظوری لینا ضروری ہوگی؟ یہ فیصلہ وائٹ ہاؤس کرے گا۔وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ 60 دن کی پابندی والی گھڑی رک چکی ، اب کانگریس سے اجازت کی ضرورت نہیں رہی۔ادھر امریکی سینیٹ میں ایران جنگ پر صدر ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی ڈیموکریٹس کی چھٹی کوشش بھی ناکام ہوگئی ہے۔کیلی فورنیا سے ڈیموکریٹ سینیٹر ایڈم شف کی قرارداد 47 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے مسترد ہوگئی۔، قرارداد کا مقصد صدر کو ایران جنگ کے بعد امریکی افواج کو واپس بلانے کی ہدایت دینا تھا ۔دوسری جانب امریکا نے ایرانی حکومت کے بیرون ملک موجود پنشن فنڈز کے اکاؤنٹس منجمد کرنے پر غور شروع کر دیا۔امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسینٹ نے امریکی ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ امریکا ناکا بندی کے علاوہ ایران پر مزید سخت معاشی دباؤ برقرار رکھے گا۔امریکی وزیرِ خزانہ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ان سے ایران پر دباؤ بڑھانے کو کہا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ایرانی تیل کی خرید و فروخت میں ملوث صنعتوں اور بینکوں پر ثانوی پابندیاں عائد کرنے کے ارادے سے آگاہ کردیا گیا ہے ۔ادھراقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے عرب ممالک پر امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائی میں معاونت کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ دہرا دیا۔ایرانی سفیر نے خط میں کہا کہ خلیج فارس سے ملحق ممالک پر لازم ہے کہ وہ ایران کو مکمل ہرجانہ ادا کریں جس میں ان کے اقدامات کے باعث ہونے والے تمام نقصانات کا ازالہ شامل ہو۔ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایرانی قوم کے خلاف کی گئی امریکی جارحیت کے جواز کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے امریکا کے حق دفاع کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔دوسری جانب آبنائے ہرمز میں جہازرانی کی بحالی کے لیے امریکا نے ایک نیا بین الاقوامی اتحاد بنانے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اس اتحاد کا مقصد خطے میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس مجوزہ اتحاد کو ’میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ‘ (ایم ایف سی) کا نام دیا گیا ہے۔
اس منصوبے کا ذکر امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے مختلف امریکی سفارت خانوں کو بھیجے گئے ایک سرکاری مراسلے میں کیا گیا، جس میں سفارتکاروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ دیگر ممالک کو اس اتحاد میں شامل ہونے پر آمادہ کریں۔ذرائع کے مطابق امریکا کی قیادت میں قائم ہونے والا یہ اتحاد معلومات کے تبادلے، سفارتی ہم آہنگی اور پابندیوں کے مؤثر نفاذ پر کام کرے گا۔ اس کے ذریعے خطے میں بحری سیکیورٹی کو بہتر بنانے اور جہازرانی کو درپیش خطرات کو کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔رپورٹ کے مطابق یہ اتحاد امریکی محکمہ خارجہ اور امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے باہمی تعاون سے چلایا جائے گا۔ محکمہ خارجہ سفارتی رابطوں کا مرکز ہوگا، جبکہ سینٹکام کمرشل شپنگ کے لیے ریئل ٹائم بحری معلومات فراہم کرے گا اور اتحادی افواج کے درمیان معلومات کے تبادلے کو مربوط بنائے گا۔ادھراقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمد و رفت میں رکاوٹ عالمی معیشت کو شدید متاثر کر رہی ہے۔ موجودہ بحران نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔برطانوی اخبارکےمطابق اسرائیل نے ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں سے دفاع کے لیے متحدہ عرب امارات کو جدید سسٹم فراہم کیے جن میں ایک جدید لیزر دفاعی نظام بھی شامل ہے۔برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے ’اسپیکٹرو‘ نامی سرویلنس سسٹم متحدہ عرب امارات کو فراہم کیا جو تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے سے آنے والے ڈرونز خصوصاً شاہد ڈرونز کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اخبار کے مطابق اس کے علاوہ اسرائیل نے اپنے ’آئرن بیم‘ لیزر دفاعی نظام کا ایک ورژن بھی فراہم کیا جو قلیل فاصلے تک مار کرنے والے راکٹس اور ڈرونز کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ سسٹم اسرائیل نے رواں سال کے آغاز میں لبنان سے حزب اللہ کے حملوں کے خلاف استعمال کیا تھا۔ادھر چینی وزیر خارجہ وانگ ژی اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے۔چینی میڈیا کے مطابق چین اور امریکا کے وزرائے خارجہ نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔







