ڈبل شاہ ڈیجیٹل فراڈ تک، پاکستان میں پونزی سکیموں کا جال، منافع کے لالچ میں شہری کنگال

ملتان (سٹاف رپورٹر) ملک کے مختلف شہروںخصوصاً تعلیمی اور کاروباری مراکز میں ایک ایسا مالی رجحان تیزی سے پھیل رہا ہے جو بظاہر آسان دولت، فوری منافع اور بغیر محنت کے آمدن کے خواب دکھاتا ہے مگر حقیقت میں یہ خواب نہیں بلکہ ایک انتہائی منظم مالی دھوکاہے جسے دنیا پونزی سکیم کے نام سے جانتی ہے۔ یہ ایسا جال ہے جو ایک بار پھیل جائے تو نہ صرف افراد کی جمع پونجی نگل لیتا ہے بلکہ پورے معاشرے میں مالی اعتماد اور معاشی توازن کو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ پونزی سکیم کی بنیاد ایک سادہ مگر خطرناک اصول پر رکھی جاتی ہے: پرانے سرمایہ کاروں کو منافع نئے آنے والے سرمایہ کاروں کے پیسوں سے دیا جاتا ہےنہ کہ کسی حقیقی کاروبار یا پیداوار سے۔ ابتدا میں متاثرین کو غیر معمولی منافع کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے، جیسے چند ماہ میں رقم دگنی یا ہر ماہ مستقل اور غیر معمولی شرح منافع۔ یہ دعوے معاشی اصولوں کے بالکل برعکس ہوتے ہیں مگر لالچ اور لاعلمی کے باعث بہت سے لوگ اس میں پھنس جاتے ہیں۔شروع میں نظام کچھ لوگوں کو واقعی ادائیگیاں کرتا ہےتاکہ اعتماد پیدا ہو اور مزید افراد شامل ہوں۔ یہی مرحلہ اس سکیم کی سب سے بڑی چال ہوتا ہے۔ ابتدائی سرمایہ کار خوش ہو کر نہ صرف خود مزید رقم لگاتے ہیں بلکہ اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو بھی اس نظام کا حصہ بنا لیتے ہیں۔ اس طرح ایک نیٹ ورک بنتا جاتا ہے جو بظاہر کامیاب دکھائی دیتا ہے مگر اندر سے مکمل طور پر کھوکھلا ہوتا ہے۔جب نئے لوگوں کی آمد سست پڑنے لگتی ہے تو پورا نظام لرزنے لگتا ہے۔ چونکہ اصل آمدن کا کوئی ذریعہ موجود نہیں ہوتا، اس لیے ادائیگیاں رک جاتی ہیں، دفاتر بند ہو جاتے ہیں اور منتظمین غائب ہو جاتے ہیں۔ آخرکار وہ افراد جو سب سے آخر میں اس جال میں شامل ہوئے ہوتے ہیں اپنی پوری جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ پاکستان میں اس طرز کے کئی بڑے مالی سکینڈلز سامنے آ چکے ہیں جنہوں نے ہزاروں خاندانوں کو متاثر کیا۔ملتان کامددکمیٹی سکینڈل ہویا گوجرانوالہ کا بدنام زمانہ’’ڈبل شاہ‘‘کیس یا بعد میں سامنے آنے والے بڑے آن لائن اور کرپٹو سرمایہ کاری فراڈز، ہر واقعہ ایک ہی سبق دیتا ہے کہ غیر معمولی منافع کا دعویٰ ہمیشہ خطرے کی علامت ہوتا ہے۔ بعض سکیمیں خود کو جدید مالی ٹیکنالوجی، فاریکس ٹریڈنگ یا کرپٹو کرنسی کے نام پر پیش کرتی ہیں تاکہ لوگوں کو زیادہ آسانی سے متاثر کیا جا سکے۔ قانونی طور پر ایسی تمام سکیمیں پاکستان میں غیر قانونی ہیں۔ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے مطابق کوئی بھی سرمایہ کاری سکیم جو رجسٹرڈ نہ ہو اور جس میں منافع کی ضمانت دی جائےوہ فراڈ کے زمرے میں آتی ہے۔ اسی طرح ایف آئی اے اور نیب ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں کرتے رہتے ہیں، مگر بدقسمتی سے زیادہ تر صورتوں میں متاثرہ افراد کی رقوم واپس نہیں آ پاتیں کیونکہ پیسہ پہلے ہی غیر قانونی طریقوں سے منتقل یا خرچ ہو چکا ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق اس قسم کے فراڈ کی سب سے بڑی نشانی غیر حقیقی منافع کی ضمانت، مسلسل یکساں آمدن کا دعویٰ، نئے افراد کو شامل کرنے پر انحصار اور رقم نکلوانے میں غیر معمولی تاخیر یا بہانے ہیں۔ عام معاشی نظام میں منافع ہمیشہ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے تابع ہوتا ہے، پونزی سکیم میں ہر ماہ منافع کا تسلسل بذات خود ایک بڑا خطرہ ہوتا ہے۔ اصل مسئلہ صرف مالی نقصان نہیں بلکہ سماجی اعتماد کا ٹوٹ جانا بھی ہے۔ جب ایک شخص دوسرے کے ذریعے اس نظام میں لایا جاتا ہے اور بعد میں نقصان اٹھاتا ہے تو تعلقات بھی متاثر ہوتے ہیں اور معاشرے میں بداعتمادی بڑھتی ہے۔ یہ سکیمیں صرف افراد کو نہیں بلکہ پورے سماجی ڈھانچے کو متاثر کرتی ہیں۔ایسے حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام مالی آگاہی حاصل کریں، کسی بھی غیر واضح یا غیر رجسٹرڈ سرمایہ کاری سے دور رہیں اور فوری فائدے کے لالچ میں اپنی زندگی بھر کی کمائی داؤ پر نہ لگائیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جائز کاروبار ہمیشہ محدود مگر حقیقت پسندانہ منافع دیتا ہےجبکہ غیر معمولی وعدے ہمیشہ غیر معمولی نقصان کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت جتنی جلدی سمجھ لی جائے، اتنا ہی بہتر ہے، کیونکہ مالی دھوکا صرف پیسے کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ اعتماد، رشتوں اور مستقبل کا نقصان بھی ساتھ لے آتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں