ملتان میں ڈاکو راج، شہری گھروں میں محفوظ نہ روڈ پر، خاتون قتل، پولیس، سیف سٹی ناکام

ملتان(نمائندہ خصوصی )ڈکیتی کے دوران فائرنگ، بیوی جاں بحق، شوہر زخمی ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق ملتان کے علاقے بوٹی والا نواز شریف زرعی یونیورسٹی کے قریب ڈکیتی کی واردات میں نامعلوم ڈاکوؤں کی فائرنگ سے رخسانہ بی بی جاں بحق ہو گئیں جبکہ ان کا شوہر ندیم احمد زخمی ہو گیا۔ریسکیو کو اطلاع ملتے ہی ٹیمیں موقع پر پہنچیںجہاں موجود افراد نے انہیں بتایا کہ ڈاکو گھر میں داخل ہوئے اور شور پر فائرنگ کر دی۔ زخمی ندیم احمد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد نشتر ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ رخسانہ بی بی کی لاش بھی قانونی کارروائی کے بعد ہسپتال بھیجی گئی۔ پولیس نے شواہد اکٹھے کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔ واضح رہے شہر اولیاء ایک بار پھر جرائم پیشہ عناصر کے نرغے میں آ گیا جہاں دن د ہاڑے اور رات گئے شہریوں پر فائرنگ، ڈکیتی اور سٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہریوں کے مطابق نہ صرف مرکزی شاہراہیں بلکہ گلی محلوں تک میں جرائم پیشہ افراد بلاخوف و خطر سرگرم ہو چکے ہیں، جس سے خوف و ہراس کی فضا قائم ہو گئی ہے۔ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں مختلف علاقوں میں مبینہ طور پر مسلح افراد نے شہریوں کو اسلحہ کے زور پر لوٹنے کے ساتھ مزاحمت پر فائرنگ کے واقعات بھی کیےجن میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ گزشتہ دنوں شاہ رکن عالم کالونی میں شہری کوچلتے روڈپرڈاکوئوں نے دن دہاڑے لوٹ لیا۔شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ خود کو کہیں بھی محفوظ تصور نہیں کرتے حتیٰ کہ دن کے اوقات میں بھی لوٹ مار اور فائرنگ کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔شہر میں نصب سیف سٹی کیمرے بھی جرائم کی روک تھام اور ملزمان کی نشاندہی میں مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔ متعدد وارداتوں کے باوجود ملزمان کی گرفتاری نہ ہونا سوالیہ نشان بن چکا ہے شہریوں کا مؤقف ہے کہ جدید ٹیکنالوجی پر اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود اس کے نتائج سامنے نہیں آ رہے۔دوسری جانب پولیس کی جانب سے قائم کیے گئے ناکے اور پٹرولنگ بھی شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے میں خاطر خواہ کردار ادا نہیں کر پا رہے۔ کئی علاقوں میں پولیس کی عدم موجودگی یا تاخیر سے پہنچنے کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں، جس سے جرائم پیشہ عناصر کے حوصلے بلند ہو رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سی پی او ملتان صادق علی ڈوگر کی زیر صدارت روزانہ کی بنیاد پر کرائم میٹنگز کا انعقاد کیا جا رہا ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں اور جرائم کی شرح میں واضح کمی دکھائی نہیں دے رہی۔ ذرائع کے مطابق- محض اجلاسوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات، مؤثر حکمت عملی اور نچلی سطح پر سخت نگرانی کی ضرورت ہے۔شہری حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ملتان میں بڑھتی ہوئی جرائم کی لہر پر فوری قابو پایا جائے، پولیس نظام کو فعال اور جوابدہ بنایا جائے، اور سیف سٹی منصوبے کو حقیقی معنوں میں مؤثر بنایا جائے تاکہ شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں