ملتان (سٹاف رپورٹر) پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک ایسا المیہ جنم لے چکا ہے جس پر جتنی بھی تنقید کی جائے کم ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے ملک بھر کی مختلف یونیورسٹیوں اور ان کے شعبہ جات کو دھڑا دھڑ ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز کے لیے این او سیز جاری کیے جا رہے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس کا کوئی انجام بھی سوچا گیا ہے یا نہیں؟ حالیہ صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ ملک میں ہزاروں پی ایچ ڈی ہولڈرزجنہیں برسوں کی محنت اور قربانی کے بعد’’ڈاکٹر‘‘کا اعزاز ملتا ہے، آج بے روزگاری یا کم گریڈ کی ملازمتوں کا شکار ہیں۔ تعلیمی ادارے، اساتذہ اور یونیورسٹیاں معیار (Quality) کی بجائے تعداد (Quantity) بڑھانے کی دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں۔ مقصد صرف اپنا اکیڈمک پروفائل بہتر بنانا رہ گیا ہے نہ کہ ملک کے لیے حقیقی علمی سرمایہ تیار کرنا۔ المیہ یہاں ختم نہیں ہوتا۔ ایک طرف گریڈ 14 اور 16 میں کام کرنے والے اساتذہ پی ایچ ڈی کی ڈگری کے باوجود بنیادی سطح کی نوکریاں کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف سفارش، تعلقات اور نظام کی کمزوریوں کے باعث کم میرٹ رکھنے والے افراد گریڈ 19 میں اسسٹنٹ پروفیسر بن کر بیٹھے ہیں۔ یہ کھلا تضاد نہ صرف تعلیمی نظام پر سوالیہ نشان ہے بلکہ نوجوان نسل کے لیے شدید مایوسی کا باعث بھی بن رہا ہے۔ وفاقی وزارت تعلیم اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب سمیت متعلقہ اداروں کی خاموشی اس بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ کیا ان اداروں کی ذمہ داری صرف ڈگریاں بانٹنا ہے؟ کیا کسی نے یہ سوچا کہ ہر سال سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں پی ایچ ڈی پیدا کرنے کے بعد ان کے لیے روزگار کہاں سے آئے گا؟ یونیورسٹیوں میں صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ ایک اسسٹنٹ پروفیسر کی ایک سیٹ کے لیے 30 سے 40 پی ایچ ڈی امیدوار درخواست دیتے ہیں۔ باقی رہ جانے والے نوجوان نہ صرف بے روزگار رہ جاتے ہیں بلکہ شدید ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار ہو رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا خاموش بحران ہے جو مستقبل میں تعلیمی نظام کو مکمل طور پر کھوکھلا کر سکتا ہے۔ اگر فوری طور پر پالیسی سازی نہ کی گئی تو پی ایچ ڈی کی ڈگری اپنی وقعت کھو دے گی اور اعلیٰ تعلیم محض ایک کاغذی دوڑ بن کر رہ جائے گی۔ حکومت پاکستان، متعلقہ اداروں اور پالیسی سازوں کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ وقت آ چکا ہے کہ این او سیز کے اجرا، داخلوں کی تعداد، اور ملازمتوں کے مواقع کے درمیان توازن پیدا کیا جائے۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب’’ڈاکٹر‘‘کا لقب بھی بے روزگاری کی علامت بن جائے گا۔







