فیسوں کی عدم ادائیگی کا تنازع، قائداعظم یونیورسٹی اور طلبا تنظیم آمنے سامنے، سنگین الزامات

ملتان (سٹاف رپورٹر) ملک کی صفِ اول جامعات میں شمار ہونے والی قائداعظم یونیورسٹی ایک نئے اور سنگین تنازعے کی لپیٹ میں آ گئی ہے، جہاں طلبا تنظیم قائدین سٹوڈنٹس فیڈریشن(Quaidian Students Federation )نے انتظامیہ پر شدید الزامات عائد کرتے ہوئے ماحول کو انتہائی کشیدہ بنا دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق طلبا رہنماؤں نے ایک ہنگامی بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ فیسوں کی عدم ادائیگی کو جواز بنا کر متعدد طلبہ کو امتحانات میں بیٹھنے سے روکا جا رہا ہے بلکہ بعض کیسز میں مبینہ طور پر انہیں کلاسز اور امتحانی ہالز سے ذلت آمیز انداز میں نکالا گیا۔ طلبہ کے مطابق یہ عمل نہ صرف تعلیمی استحصال ہے بلکہ آئین میں دیے گئے بنیادی حقِ تعلیم کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ طلبہ تنظیم کے رہنماؤں نے سخت اور جارحانہ لہجے میں کہا کہ یہ ہمارا آپس کا مسئلہ نہیں بلکہ لال بلڈنگ میں بیٹھے افسران کے ساتھ ٹکراؤ ہے اور بعض بیانات میں دھمکی آمیز جملے بھی سامنے آئے جس سے صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ طلبہ کے مالی مسائل کو سمجھنے کے بجائے طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔ مزید برآں طلبہ نے سکیورٹی اہلکاروں پر بھی سنگین الزامات عائد کیے ہیں کہ احتجاج کے دوران طلبہ کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، انہیںکالر سے پکڑ کر گھسیٹا گیا اور ان کی تضحیک کی گئی۔ طلبہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ان تمام واقعات کےناقابلِ تردید ثبوت موجود ہیں جو وہ متعلقہ فورمز حتیٰ کہ عدالت اور پارلیمنٹ تک لے جائیں گے۔ طلبہ کے مطابق اصل مسئلہ مالی طور پر کمزور اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر سرکاری فنڈز، سکالرشپس اور ہائرایجوکیشن کمیشن کی جانب سے دیے جانے والے وسائل موجود ہیں تو پھر طلبہ کو چند دن کی مہلت کیوں نہیں دی جاتی؟ اگر فیس ہی سب کچھ ہے تو پھر اسے پبلک سیکٹر یونیورسٹی کہنا بند کر دیا جائے۔ ایک اور اہم نکتہ جو سامنے آیا وہ یونیورسٹی میں مستقل وائس چانسلر کی عدم تعیناتی ہے۔ طلبہ تنظیم نے واضح مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر مستقل سربراہ تعینات کیا جائے کیونکہ ایک ٹاپ رینکنگ یونیورسٹی کا بغیر مستقل قیادت کے چلنا خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ یہ تنازعہ اس وقت مزید سنگین رخ اختیار کر گیا جب طلبہ نے اعلان کیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ احتجاج کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے عدالتوں، میڈیا اور پارلیمنٹ تک جائیں گے۔ دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا قائداعظم یونیورسٹی نے اس واقعے کا سختی سے نوٹس لیا ہےجس میں چند طلبہ نے زبردستی تعلیمی شعبہ جات کو بند کیا، اساتذہ اور وائس چانسلر کے خلاف نازیبا کلمات کہے جنہیں بعد ازاں سوشل میڈیا پر بھی پھیلایا گیا۔ اس سلسلے میں متعلقہ حکام کے پاس باقاعدہ شکایت درج کروا دی گئی ہے اور اس معاملے کو قانون کے مطابق آگے بڑھایا جائے گا۔ اس طرح کے اقدامات کی شدید مذمت کی جاتی ہے جو ایک ذمہ دار تعلیمی برادری کی اقدار کے منافی ہیں۔ قائداعظم یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے یہ واضح کیا جاتا ہے کہ صرف انہی طلبہ کو مڈٹرم امتحانات میں شرکت کے دوران مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جنہوں نے اپنے کورسز کی رجسٹریشن مکمل نہیں کی تھی۔ اس بات کی وضاحت بہت ضروری ہے کہ بہار سمسٹر فروری 2026ء کے آغاز سے ہی یونیورسٹی نے طلبہ کی سہولت کے لیے کورس رجسٹریشن اور فیس جمع کروانے کی آخری تاریخ میں متعدد بار توسیع کی۔ یونیورسٹی انتظامیہ ایک پُرامن اور بلا تعطل تعلیمی ماحول کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ چند افراد کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ زبردستی شعبہ جات کو بند کر کے یونیورسٹی کے معمولات میں خلل ڈالیں یا دیگر طلبہ کو ان کے حقِ تعلیم سے محروم کریں۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملہ حساس نوعیت اختیار کر چکا ہے اور کسی بھی وقت مزید کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف قائداعظم یونیورسٹی کی ساکھ پر سوالیہ نشان بن چکی ہے بلکہ ملک کے اعلیٰ تعلیمی نظام میں موجود گہرے تضادات کو بھی بے نقاب کر رہی ہے، جہاں ایک طرف عالمی رینکنگ کا دعویٰ ہے اور دوسری جانب طلبہ اپنے بنیادی حق تعلیم کے لیے سڑکوں پر کھڑے نظر آ رہے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں