رحیم یارخان(بیورو رپورٹ)لاکھوں روپے دیکر بہاولنگر سے رحیم یارخان تعیناتی حاصل کرنے والاضلع کونسل کا نیا چیف افسر چارج سنبھالتے ہی کرپشن کیلئے سرگرم،اپنی دھاک بٹھانے کیلئے ٹھیکیداروں اور ماتحت عملہ پر دفتری دروازے بند کردئیے،ڈاک سسٹم بند،ضلع میں جاری ترقیاتی کاموں کے فنڈز،ٹھیکیداروں کے بل روک لئے،سرعام 2 فیصد کمیشن کا مطالبہ،ٹھیکیداروں کا خاموش احتجاج،ماتحت عملہ ایکسین،ایس ڈی اوز،سب انجینئرز پریشان،سرکاری امور کی انجام دہی رک گئی،کمیشن دو دستخط لو کی پالیسی پر کام کیا جانے لگا۔تفصیل کے مطابق سابق چیف آفیسر ضلع کونسل کے ریٹائرڈ ہونے کے بعد10 مارچ کو محکمہ لوکل گورنمنٹ پنجاب نے چیف آفیسر بلدیہ بہاولنگر محمد نصر اللہ کو چیف آفیسر ضلع کونسل رحیم یارخان تعینات کردیا تھا،جنہوں نے 11 مارچ کو اپنا چارج سنبھالتے ہیں کرپشن کا بازار گرم کرنے کیلئے ٹھیکیداروں اور ماتحت عملہ کیلئے اپنے دفتر کے دروازے بند کردئیے تھے،معتبر ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چیف آفیسر ضلع کونسل محمد نصراللہ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کو لاکھوں روپے کی رشوت دیکر رحیم یارخان تعینات ہوئے ہیں اور بہاولنگر سے رحیم یارخان تبادلے کی مد میں دئیے جانیوالے لاکھوں روپے وصول کرنے کیلئے ٹھیکیداروں پر سرکاری زمین تنگ کرنا شروع کردی ہے،ٹھیکیداری ذرائع کے مطابق جب سے چیف آفیسر محمد نصراللہ رحیم یارخان تعینات ہوئے ہیں ضلع بھر میں جاری ضلع کونسل کی ترقیاتی اسکیموں،منصوبوں اور تعمیر و توسیع کے کاموں کو بریک لگ گئی ہیں،چیف آفیسرضلع کونسل نے ضلع میں جاری ترقیاتی اسکیموں کے فنڈز روکنے کے ساتھ ساتھ ٹھیکیداروں کی واجبات اور بلز بھی روک لئے ہیں اور ٹھیکیداروں سے سرعام 2 فیصد کمیشن کا مطالبہ کیا جارہا ہے،ذرائع کے مطابق ضلع میں جاری ترقیاتی کاموں کے ٹینڈرز سابق (ر) چیف آفیسر ضلع کونسل چوہدری محمد شفیق کے دور میں ای ٹینڈرنگ کے ذریعے ہوئے تھے اور ٹھیکیداروں نے چیف آفیسر ضلع کونسل کو 2 فیصد کمیشن دے رکھا ہے اب لاکھوں کے ترقیاتی اسکیموں کے فنڈز سے محکمے کو کتنی بار کمیشن دیں،ٹھیکیداروں نے خاموش احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب،سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب،چیف سیکرٹری پنجاب اور ڈپٹی کمشنررحیم یارخان سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں جاری ترقیاتی اسکیموں کیلئے فنڈز کا اجراء کروائیں۔دوسری جانب ضلع کونسل کے ایکیسن،ایس ڈی اوز،سب انجینئرز بھی چیف آفیسر ضلع کونسل کی انوکھی منطق پر پریشان ہیں کہ موصوف جب سے سیٹ پر تعینات ہوئے ہیں آتے ہی ڈاک سسٹم بند کردیا اور ماتحت عملے سمیت ٹھیکیداروں کیلئے اپنے دفتر کے دروازے بند کردئیے ہیں،سرکاری ملازمین کا کہنا ہے کہ چیف آفیسر ضلع کونسل محمد نصراللہ کی تعیناتی ہونے سے ترقیاتی کاموں کو بریک لگنے کے ساتھ ساتھ سرکار امور کی انجام دہی میں بری طرح متاثر ہوئی ہے۔اس حوالے سے موقف جاننے کیلئے متعدد مرتبہ موقف جاننے کیلئے چیف آفیسر ضلع کونسل محمد نصراللہ سے رابطہ کیا گیا مگر موصوف فون کالز اٹنڈ کرنے کی بجائے پی اے کے ذریعے یہ پیغام دلوا کر فون کالز بند کردیتے ہیں کہ صاحب ڈی سی میٹنگ میں مصروف ہیں فری ہونگے تو رابطہ کروادیا جائیگا جو تاحال نہ ہوسکا۔جب کہ ضلع کونسل کے حکام نے خبر کو 100 فیصد درست قرار دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ موجودہ صورتحال یہی ہے کہ مگر مجاز اتھارٹی سی ای او ضلع کونسل ہیں وہ ہی موقف دینگے۔







