ملتان(نمائندہ خصوصی)حکومت نے جیلوں کو روایتی سزا گاہوں کے بجائے حقیقی اصلاحی مراکز میں تبدیل کرنے کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے ملتان سمیت صوبے بھر کی مختلف جیلوں میں فیکٹریوں کا قیام عمل میں لا دیا ہے، جہاں قیدیوں کو ہنر سکھانے اور انہیں باعزت روزگار کے قابل بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد قیدیوں کی بحالی اور انہیں معاشرے کا مفید شہری بنانا ہے۔ جیل حکام کا کہنا ہے کہ ان فیکٹریوں میں قیدی مختلف پیشہ ورانہ مہارتیں سیکھ رہے ہیں، جس سے وہ اپنی سزا کے دوران مثبت سرگرمیوں میں مصروف رہنے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں بہتر زندگی گزارنے کے قابل ہو سکیں گے۔حکام کے مطابق قیدی ان فیکٹریوں میں کام کر کے معاوضہ بھی حاصل کریں گے، جس سے وہ اپنے اہل خانہ کی مالی مدد کر سکیں گے۔ اس عمل کو قیدیوں کی ذہنی، سماجی اور معاشی بحالی کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض جیلوں میں ان فیکٹریوں کے نظام میں شفافیت کے حوالے سے سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ مبینہ طور پر چند افسران اور اہلکاروں کی ملی بھگت سے فیکٹریوں میں تیار ہونے والا سرکاری سامان ذاتی استعمال میں لایا جانے یا غیر قانونی طور پر باہر منتقل کیے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اس منصوبے کو کامیاب بنانا ہے تو فیکٹریوں کے نظام میں سخت نگرانی اور شفافیت کو یقینی بنانا ہوگا، تاکہ کسی بھی قسم کی کرپشن یا بدعنوانی کی روک تھام کی جا سکے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جدید مانیٹرنگ سسٹم، باقاعدہ آڈٹ اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی اس منصوبے کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہیں۔شہری و سماجی حلقوں نے اس اقدام کو مجموعی طور پر خوش آئند قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت جہاں قیدیوں کی اصلاح اور ہنر مندی پر توجہ دے رہی ہے وہیں کرپشن کے خاتمے کے لیے بھی عملی اقدامات کرے، تاکہ جیلوں کو حقیقی معنوں میں اصلاحی مراکز بنایا جا سکے اور اس کے ثمرات معاشرے تک پہنچ سکیں۔







