نشتر ہسپتال: جیب تراش خواتین کی رہائی، پولیس پر پیسے لینے کا الزام

ملتان (وقائع نگار ) نشتر ہسپتال میں پولیس اور سکیورٹی عملہ کی مبینہ ملی بھگت۔ اقرار جرم کرنے والی دو جیب تراش عورتوں کو پیسے لیکر چھوڑ دیا گیا۔جس کے بعد ایک بار پھر سکیورٹی عملے پر کارکردگی پر سوال اٹھنے لگے ہیں ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے گزشتہ روز او پی ڈی میں آنے والے مریضوں نے شکایت کی انکی جیبوں سے 60 اور 22 ہزار روپے دو جیب تراش عورتوں نے نکال لیے ہیں .جس پر ڈیوٹی پر موجود سکیورٹی عملے نے صبح گیارہ بجے قریب دونوں خواتین کو پکڑ کر سیکورٹی آفس لے آئے۔اسی دوران سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے تحویل کی گئیں مذکورہ دو عورتوں کو مشکوک حرکت کرتے ہو دیکھا گیا۔پوچھ گوچھ پر دونوں جیب تراش خواتین نے او پی ڈی میں موجود افراد کی جیب کاٹنے کا اقرار جرم کیا ۔دونوں جیب تراش خواتین کو پولیس چوکی نشتر ہسپتال کے حوالے کر دیا گیا جنہوں نے جان بوجھ کر پولیس کارروائی کرنے کی بجائے ساڑھے پانچ گھنٹے تک ریکوری کا بہانہ کرکے انکے اپنے پاس مہمان کے طور پر سکیورٹی آفس میںبٹھائے رکھا ۔جب لواحقین پیسے لے کر آگئے ۔تو عامر نامی پولیس کانسٹیبل نے سکیورٹی گارڈ کے ساتھ ملکر ایک فاروق متاثرہ کو ساٹھ ہزار روپے کے بجائے 45 ہزار روپے اور دوسرا متاثرہ عمران کو بائیس ہزار روپے کے بجائے پندرہ ہزار ریکوری کی مد میں دیئے جبکہ باقی کی رقم اپنی جیبوں میں ڈال لی ۔اور اسی طرح دونوں جیب تراش خواتین کو پولیس تھانہ کینٹ کے حوالے کرنے کی بجائے چھوڑ دیا گیا ۔یہاں یہ بات بھی واضح رہے پولیس اور سکیورٹی عملے نے متاثرہ شہریوں کو سختی سے کہا اگر تم کوئی بھی پوچھے تو بتانا کہ ہمیں سارے پیسے مل گئے ہیں ۔ نشتر ہسپتال ملازمین نے بتایا ہے یہ خواتین پہلے بھی ہسپتال کی ایسی وارداتیں کرتے ہوئے کئی بار پکڑ جا چکی ہیں ۔مگر پتہ نہیں کیوں انکو چھوڑ دیا گیا یے ۔ذرائع کا مزید کہنا ہے سکیورٹی آفس اس وقت پولیس کی ایسی گیم کرنے کیلئے بہترین جگہ بن چکی ہے ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں