اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 10 فیصد تک فنڈز مختص کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا جائزہ مشن آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کرے گا جہاں بجٹ سازی کے حوالے سے حتمی مشاورت کی جائے گی۔ اس دوران اگلے مالی سال کے لیے اہم معاشی اہداف پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی مشاورت سے مجموعی بجٹ کا حجم، جی ڈی پی کی شرح نمو، ٹیکس ہدف، بجٹ خسارہ، پی ایس ڈی پی، ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح اور قرضوں کی ادائیگی جیسے اہم معاملات کو حتمی شکل دی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ میں غیر ضروری ٹیکس چھوٹ کو مزید کم کرنے کی تجویز زیر غور ہے اور تمام معاشی اہداف آئی ایم ایف کے طے کردہ معیار کے مطابق رکھے جائیں گے۔
کاروباری برادری کی جانب سے بھی بجٹ تجاویز موصول ہوئی ہیں، جن میں ایف پی سی سی آئی، چیمبرز آف کامرس اور دیگر تاجر تنظیمیں شامل ہیں۔ ان تجاویز کا جائزہ لے کر بجٹ مسودہ تیار کیا جا رہا ہے۔
مالی مشکلات کے باعث اگلے سال بھی ترقیاتی بجٹ محدود رکھنے کی تجویز سامنے آئی ہے، جبکہ وزارت خزانہ نے پی ایس ڈی پی کے لیے تین ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف وزارتوں نے 300 سے زائد نئے منصوبوں کے لیے فنڈز کی درخواست کی ہے، جن کی مجموعی لاگت تقریباً سات ہزار ارب روپے بنتی ہے۔ تاہم حکومت جاری منصوبوں کی تکمیل کو ترجیح دینے پر غور کر رہی ہے تاکہ دستیاب وسائل کا مؤثر استعمال ممکن بنایا جا سکے۔
رواں مالی سال میں بھی پی ایس ڈی پی کے لیے ایک ہزار ارب روپے رکھے گئے تھے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کی مجموعی لاگت 13 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ جولائی سے اپریل تک 450 ارب روپے سے زائد خرچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ منصوبوں کا تھرو فارورڈ بھی تقریباً ایک ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔







