ملتان(سٹاف رپورٹر) ڈبل شاہ تھیوری نے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بھی اپنے پنجے گاڑلیے اور خواتین مرد و حضرات زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے کے لالچ میں اس تھیوری کے جال میں بری طرح پھنس چکے ہیں۔ ملتان کی علمی فضا میں یہ تشویشناک رجحان خاموشی سے جڑیں پکڑ رہا ہے اور ایسے افراد جو علم، شعور اور کردار سازی کی علامت سمجھے جاتے ہیں، آج ایک ایسے جال میں الجھتے جا رہے ہیں جس کی بنیاد ہی فریب، لالچ اور عارضی چمک دمک پر ہے۔ سوشل میڈیا اور نام نہاد’’ڈیجیٹل کمائی‘‘کے پردے میں چلنے والی جعلی ایپس نے اب درسگاہوں تک رسائی حاصل کر لی ہے اور یہ محض ایک انفرادی لالچ نہیں بلکہ ایک اجتماعی المیہ بنتا جا رہا ہے۔ ماضی میں بھی اسی نوعیت کی سکیمیں سامنے آتی رہی ہیں جہاں ابتدائی افراد کو وقتی فائدہ دے کر ایک لمبی زنجیر بنائی جاتی ہے۔ ہر نیا شامل ہونے والا دراصل اپنے سے اگلے فرد کے لیے’’ایندھن‘‘ بنتا ہے۔ بظاہر روزانہ 10، 50 یا 100 ڈالر کمانا ایک دلکش خواب لگتا ہےمگر حقیقت یہ ہے کہ یہ پیسہ کسی حقیقی کاروبار یا سرمایہ کاری سے نہیں بلکہ نئے شامل ہونے والوں کی جیبوں سے نکالا جاتا ہے۔ یہ ایک کلاسک فراڈ ماڈل ہے جہاں آخری آنے والا ہمیشہ نقصان اٹھاتا ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ اس عمل میں وہ افراد بھی شامل ہو رہے ہیں جو پہلے ہی باعزت تنخواہیں حاصل کر رہے ہیں جن کی ماہانہ آمدن دو سے چار لاکھ روپے تک ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سا خلا ہے جو اس اضافی اور مشکوک آمدن کی خواہش کو جنم دے رہا ہے؟ کیا یہ صرف برانڈڈ اشیاء کا لالچ ہے؟ یا پھر معاشرے میں تیزی سے بڑھتی ہوئی ’’زیادہ کمانے‘‘کی دوڑ نے اقدار کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔حقیقت تلخ ہے مگر واضح: ایسی سکیمیں زیادہ دیر نہیں چلتی۔ جس دن یہ جعلی ایپ بند ہوگی، اس دن نہ صرف سرمایہ ڈوبے گا بلکہ اعتماد، عزت اور ساکھ بھی خاک میں مل سکتی ہے۔ اس کے بعد وہی لوگ جنہیں اس جال میں شامل کیا گیا اپنے نقصانات کا حساب مانگیں گے۔ قانونی پیچیدگیاں، شکایات، ایف آئی اے کی کارروائیاں، اور عدالتوں کے چکر، یہ سب ایک بھیانک حقیقت بن سکتے ہیں۔ ماضی میں ایسے کئی کیسز سامنے آ چکے ہیں جہاں نہ صرف رقوم کی واپسی کروائی گئی بلکہ ملوث افراد کو قانونی نتائج بھی بھگتنا پڑے۔یہ صرف پیسے کا معاملہ نہیں، یہ اعتماد کا سوال ہے۔ ایک استاد صرف علم نہیں دیتا، وہ مثال بھی قائم کرتا ہے۔ جب استاد ہی مشکوک سرگرمیوں میں ملوث نظر آئےتو طلبہ کے ذہنوں میں کیا پیغام جاتا ہے۔ وقت ابھی ہاتھ سے نکلا نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ فوری طور پر ایسے تمام مشکوک ذرائع سے کنارہ کشی اختیار کی جائے، دوسروں کو اس میں ملوث کرنے کا سلسلہ روکا جائےاور اپنی پیشہ ورانہ ساکھ کو بچایا جائے۔ یہ لالچ وقتی فائدہ تو دے سکتا ہےمگر اس کی قیمت اکثر بہت بھاری ہوتی ہے۔







