ایران نے آبنائے ہرمز میں دو بحری جہازوں کو اپنی تحویل میں لینے کی ویڈیو جاری کر دی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ایرانی بحریہ کے مطابق ان جہازوں کو اس وجہ سے روکا گیا اور قبضے میں لیا گیا کیونکہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں سمندری سلامتی کے ضوابط اور حفاظتی اقدامات کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ دونوں جہازوں کو بعد ازاں ایرانی ساحلی حدود کی طرف منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز پہلے ہی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، کیونکہ یہ دنیا کی سب سے اہم سمندری تجارتی گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل کی جاتی ہے۔
دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع The Pentagon نے امریکی کانگریس کو آگاہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ممکنہ طور پر بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کے عمل میں کم از کم چھ ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔
امریکی اخبار The Washington Post کی رپورٹ کے مطابق اس نوعیت کی کارروائی فوری طور پر شروع کرنا ممکن نہیں ہوگا اور اس کا انحصار امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی یا پیش رفت پر ہوگا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو اس کے اثرات عالمی معیشت، خصوصاً تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر آئندہ مہینوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔







