نشتر ہسپتال کا مالی بحران: جنوبی پنجاب میں صحت کی سہولیات سے کھلواڑ

محکمہ صحت حکومت پنجاب کی جانب سے جنوبی پنجاب کو محروم رکھنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے طبی مرکز نشتر ہسپتال ملتان کو گزشتہ کئی ماہ سے فنڈز جاری نہ کیے جا سکے، جس کے نتیجے میں ہسپتال شدید مالی بحران کا شکار ہو گیا ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق صفائی کے عملے کی خدمات فراہم کرنے والی نجی کمپنی کو گزشتہ نو ماہ سے اس کے بل ادا نہیں کیے جا رہے۔یہ مالی بحران کسی معمولی انتظامی کوتاہی کا نتیجہ نہیں بلکہ جنوبی پنجاب کی صحت کی سہولیات کو نظر انداز کرنے کی ایک منظم پالیسی کا عکاس ہے۔ نشتر ہسپتال روزانہ ہزاروں مریضوں کے لیے علاج کی آخری امید ہے۔ یہاں نہ صرف ملتان بلکہ ڈیرہ غازی خان، راجن پور، مظفرگڑھ، لیہ، بہاولپور اور دیگر دور دراز علاقوں سے مریض آتے ہیں۔ جب اس ہسپتال کی بنیادی ضروریات پوری نہیں کی جا رہیں تو ان مریضوں کا کیا حال ہوگا؟صفائی کے عملے کی خدمات فراہم کرنے والی نجی کمپنی کو نو ماہ سے بل ادا نہ کرنے کا مطلب ہے کہ ہسپتال کی صفائی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ گندے وارڈز، غیر صاف شدہ فرش، اور ناقص صفائی مریضوں کے لیے نئی بیماریوں کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ جب ایک مریض پہلے ہی ایک بیماری میں مبتلا ہو کر ہسپتال آتا ہے، تو اسے وہاں صفائی کے ناقص انتظامات کی وجہ سے دیگر انفیکشنز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔فنڈز کی عدم فراہمی نے صرف صفائی سٹاف کو ہی متاثر نہیں کیا بلکہ دیگر اہم اخراجات جیسے ادویات، سامان اور عملے کی تنخواہوں پر بھی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو مستقبل قریب میں نشتر ہسپتال کو اپنے دروازے بند کرنے پڑ سکتے ہیں۔یہاں ایک بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب پنجاب کا دارالحکومت لاہور کے ہسپتالوں کو فنڈز کی فراہمی میں کوئی کمی نہیں ہوتی تو جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے ہسپتال کو فنڈز کیوں نہیں دیے جا رہے؟ کیا یہ جنوبی پنجاب کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں؟ کیا جنوبی پنجاب کے مریض دوسرے درجے کے شہری ہیں؟وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے عوام سے وعدے کیے تھے کہ وہ جنوبی پنجاب کی ترقی کے لیے کام کریں گی۔ لیکن جب نشتر ہسپتال جیسے بڑے طبی مرکز کو فنڈز نہیں دیے جا رہے تو یہ وعدے ہوا میں اڑتے دکھائی دیتے ہیں۔مقامی صحت ماہرین نے محکمہ صحت حکومت پنجاب سے فوری طور پر نشتر ہسپتال کے فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ حق بجانب ہے۔ اگر فوری طور پر فنڈز جاری نہ کیے گئے تو نشتر ہسپتال جیسا بڑا ادارہ مکمل طور پر تباہ ہو سکتا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب سے درخواست ہے کہ وہ اس معاملے کا از خود نوٹس لیں۔ نشتر ہسپتال کے لیے فوری طور پر فنڈز جاری کرنے کا حکم دیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ صفائی کے عملے کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی کو فوری طور پر ان کے بل ادا کیے جائیں۔ ہسپتال میں ادویات اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔یہ صرف نشتر ہسپتال کا مسئلہ نہیں یہ جنوبی پنجاب کے لاکھوں مریضوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو لوگ علاج کی سہولیات سے محروم ہو جائیں گے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے گی اور نشتر ہسپتال کو درکار فنڈز فوری طور پر جاری کرے گی۔ تب جا کر جنوبی پنجاب کے مریضوں کو علاج کی سہولیات میسر آ سکیں گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں