ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کے لیے اسلام آباد نہیں آئے گا۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے اعلان کیا ہے کہ ایران کا فی الحال کسی نئے مذاکراتی دور کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ اس فیصلے کی بڑی وجہ امریکا کی جانب سے جنگ بندی کی شرائط کی مسلسل خلاف ورزیاں اور سفارتی عمل میں عدم سنجیدگی ہے۔ایران کا یہ موقف کسی اچانک ردعمل کا نتیجہ نہیں بلکہ امریکی اقدامات کے تسلسل پر مبنی ہے۔ اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ “امریکا نے دکھا دیا کہ وہ سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں سنجیدہ نہیں، امریکا نے جارحانہ کارروائیوں کا ارتکاب کیا ہے اور جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے بحری ناکہ بندی کرکے ایرانی بحری جہاز پر حملہ کیا، جو جنگ بندی اور بین الاقوامی قوانین دونوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکا واقعی امن چاہتا ہے؟ ایران کے مطابق امریکی تجاویز غیر سنجیدہ اور ان کے مطالبات غیر حقیقت پسندانہ ہیں۔ ایران نے اپنے مطالبات کو واضح طور پر بیان کر دیا ہے اور انہیں تبدیل نہیں کرے گا۔ دوسری طرف امریکا نے لبنان میں جنگ بندی کو معاہدے کا حصہ نہ ہونے کا کہہ کر اپنی بددیانتی کا اظہار کیا۔ ایران کا کہنا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی کی بنیاد پر ہی آبنائے ہرمز کو کھولا گیا تھا، اور امریکی اقدامات اس معاہدے کی خلاف ورزی ہیں۔پاکستان نے اس سفارتی بحران میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ امریکی خبر ایجنسی کے مطابق پاکستان نے اتوار سے امریکا اور ایران کے ساتھ رابطے بڑھا دیے ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا اور انہیں بتایا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی مذاکرات میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ تاہم ان کوششوں کے باوجود ایران اپنے موقف پر قائم ہے۔اس صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان خطے کے عوام کو ہو رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی نے پہلے ہی عالمی تیل کی سپلائی کو متاثر کر رکھا ہے، اور اب مذاکرات کی ناکامی سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ موجودہ جنگی نوعیت کی صورتحال کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو یکطرفہ طور پر معمول پر لانا ممکن نہیں ہے۔چین نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی معمول کے مطابق آمدورفت برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔ چینی صدر نے فوری اور جامع جنگ بندی کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات کو سیاسی اور سفارتی ذریعے سے حل کیا جانا چاہیے۔ایران نے امریکا کو واضح کر دیا ہے کہ اگر وہ اور اسرائیل نئی جارحیت شروع کرنا چاہتے ہیں تو ایران کی مسلح افواج اس کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ “اگرامریکا اور اسرائیل نئی جارحیت شروع کرنا چاہتے ہیں تو ہماری مسلح افواج اس کا جواب دیں گی۔”یہ صورتحال ایک بار پھر ثابت کرتی ہے کہ امریکا پر اعتماد کرنا کتنا مشکل ہے۔ ایران نے پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات کی میز پر آ کر اپنی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا، لیکن امریکا نے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کر کے ثابت کر دیا کہ وہ امن کا خواہاں نہیں ہے۔پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے لیکن ساتھ ہی اس صورتحال سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل میں ایسی ثالثی کرے جہاں دونوں فریق کے وعدوں کی ضمانت ہو۔ تب جا کر خطے میں دیرپا امن قائم ہو سکے گا۔ایران کا موقف واضح ہے: وہ اپنے قومی مفادات کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کے قومی مفادات کے تحفظ کی بات آتی ہے تو ہم ڈیڈ لائنز یا الٹی میٹم پر یقین نہیں رکھتے۔یہ ایک مضبوط پیغام ہے جو امریکا کو یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ دھمکیوں سے ایران کو نہیں جھکایا جا سکتا۔ہم امید کرتے ہیں کہ امریکا اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے گا اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کرے گا۔ ورنہ یہ کشیدگی پورے خطے کو تباہ کر سکتی ہے۔







