مذاکرات: امریکی وفد کی آمد، ایران بھی مان گیا؟

اسلام آباد،واشنگٹن،تہران، بیجنگ، ماسکو (بیورو رپورٹ،نیوزایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)مشرق وسطیٰ میں قیام امن اورجنگ کے خاتمے کیلئے پاکستان کی کوششیں رنگ لائیں۔امن مذاکرات کے دوسرےمرحلےمیں شرکت کیلئے امریکی وفد نائب صدرجےڈی وینس کی سربراہی میں پاکستان پہنچ گیا۔امریکی خبرایجنسی کے مطابق ایران بھی مذاکرات کیلئے مان گیاہے۔امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے کہاہےکہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی برقراررہےگی،معاہدہ ہواتو میں بھی ایرانی قیادت سے ملوں گا۔ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ہونے والے ہیں،فریقین میں سے کوئی بھی گیم نہیں کھیل رہا،ہماراایک ہی مطالبہ ہے ایران کے پاس جوہری ہتھیارنہ ہوں۔ترجمان ایرانی فوج نےکہاہےکہ بحری جہاز کے خلاف جارحیت کا جواب دینے کیلئے تیار ہیں۔ترجمان کریملن نےکہاہےکہ روس ایران کے معاملےمیں ثالث نہیں ہے،ضرورت پڑنے پرمذاکرات میں مدد کیلئے تیار ہیں۔چین نے ایرانی کارگو جہاز کو قبضے میں لینے پر تشویش کا اظہار کر دیا۔ایرانی صدرمسعودپزشکیان نے کہاہےکہ دشمن پر عدم اعتماد اور تعلقات میں ہوشیاری سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ سفارتی کوششوں کی حمایت کرتےہیں۔تفصیل کےمطابق امریکی ایجنسی نے دعویٰ کیاہے کہ ایران مذاکرات کیلئے وفد اسلام آباد بھیجنے پررضامند ہو گیاہے ۔امریکی ایجنسی کے مطابق ایران اور امریکہ دونوں کے وفود اسلام آباد آ سکتے ہیں ۔ دوسری جانب ٹیلی گراف نے دعویٰ کیاہے کہ صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے پر غور کررہا ہے۔دوسر ی جانب تہران میں غیر ملکی سفارتکاروں نے جنگ سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ، سفارتکاروں نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے تباہ شدہ انفرااسٹرکچر کا جائزہ لیا، غیر ملکی سفارتکاروں کو جنگ سے ہونے والی تباہی پر بریفنگ دی گئی۔ قبل ازیںامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے، ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہو، نائب صدر جے ڈی وینس کا طیارہ چند گھنٹے بعد پاکستان پہنچ جائے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہناتھا کہ کوئی بریک تھرو ہوا تو ایرانی قیادت سے ملاقات کرنا چاہوں گا،ایرانی قیادت ملنا چاہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہو گا،امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ہونے والے ہیں،فریقین میں سے کوئی بھی گیم نہیں کھیل رہا،ہماراایک ہی مطالبہ ہے ایران کے پاس جوہری ہتھیارنہ ہوں،ایران یہ مطالبہ مان لے تو ان کے پاس ترقی کرنے کا موقع ہے۔امریکی صدر نے بلومبرگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی برقرار رہے گی، ایران کے ساتھ کسی برے معاہدے میں جلدی نہیں کروں گا،آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اس وقت ختم نہیں کروں گا جب تک معاہدے پر دستخط نہ ہوجائیں گے، مجھے توقع ہے اگر معاہدہ نہ ہوا تو لڑائی دوبارہ شروع ہو جائے گی۔ادھرترجمان ایرانی فوج کے مطابق بحری جہاز کے خلاف جارحیت کا جواب دینے کیلئے تیار ہیں۔بیان کے مطابق جہاز پر ایرانی عملے کی موجودگی کے باعث ردعمل میں تاخیر کی۔ عملے کے ارکان کا تحفظ یقینی بنانے کے بعد امریکا کو جواب دیں گے۔دوسری جانب ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق آبنائے ہرمز پر سمندری آمدورفت تعلطل کا شکار ہے، کسی آئل ٹینکر نے آج آبنائے ہرمز کو عبور نہیں کیا، صرف 2 ٹینکرز آبنائے ہرمز کے راستے خلیج فارس میں داخل ہوئے، آبنائے عبور کرنے والا ایک ایل پی جی اور دوسرا کیمیکل ٹینکر تھا۔ادھرروس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ روس ایران کے معاملےمیں ثالث نہیں ہے،ضرورت پڑنے پرمذاکرات میں مدد کیلئے تیار ہیں۔روسی صدارتی آفس کریملن کےترجمان نےپریس بریفنگ میں کہا امید ہےکہ ایران امریکا مذاکراتی عمل جاری رہے گا،عالمی معیشت کو منفی نتائج سے بچانے کیلئےمذاکرات ضروری ہیں۔دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کےترجمان نےاپنےبیان میں کہا جنگی صورتحال کے باعث آبنائے ہرمز میں آمدورفت کی بحالی ممکن نہیں،آبنائے ہرمزکی صورتحال یکطرفہ پر معمول پر نہیں لاسکتے،ایران کے جوہری مواد کو ملک کے اندر ہی محفوظ رکھا جائے گا،افزودہ یورینیم کی منتقلی پر مذاکرات میں کوئی بات نہیں ہوسکتی۔ترجمان ایرانی دفتر خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران کا اب تک امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کا پلان نہیں ہے، ہم نے پاکستان کو امریکی خلاف ورزیوں سے آگاہ کردیا ہے۔ادھرترجمان چینی دفتر خارجہ نے ایرانی کارگو جہاز کو قبضے میں لینے پر تشویش کا اظہار کردیا۔چینی دفتر خارجہ کےترجمان نے پریس بریفنگ میں کہا ایرانی کارگوجہازکو قبضے میں لینے پر تشویش ہے، موجودہ صورتحال ایک نازک مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ترجمان چینی دفتر خارجہ نے کہا امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں چین تعمیری کردار ادا کرے گا،امید ہےفریقین ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ بندی کی پابندی کریں گے۔امن مذاکرات سے پہلے امریکا نے ناکہ بندی توڑنے کے الزام میں ایرانی بحری جہاز کو قبضے میں لے لیا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحریہ نے ایران کے جہاز کو خلیج عمان میں روکا، وارننگ نظر انداز کرنے پر قبضے میں لے لیا۔امریکی سینٹرل کمانڈ کےمطابق ایرانی پرچم بردارجہازکو شمالی بحیرہ عرب میں بندرعباس کی طرف جاتے روکا،عملےکی جانب سے ہدایات پرعمل نہ کرنےپرکارروائی کی گئی،جہاز کےانجن روم کو نشانہ بنایا،امریکی اہلکاروں نے جہازپر سوار ہوکر اسے تحویل میں لے لیا، جہاز کی تلاشی کا کام جاری ہے۔دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نےکشیدگی کم کرنےکیلئےسفارتی کوششوں کی حمایت کردی۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نےایرانی میڈیا سےگفتگو میں کہاجنگ کسی کےمفاد میں نہیں ہے،دشمن پر عدم اعتماد اور تعلقات میں ہوشیاری سے انکار نہیں کیا جاسکتا،کشیدگی کو کم کرنے کیلئے ہرعقلی اور سفارتی راستہ اپنانا چاہیے۔ادھرلبنان میں اسرائیلی فوج کی جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ لبنان کے علاقے کفر کلا میں اسرائیلی طیاروں نے تازہ بمباری کی ہے۔ترجمان صیہونی فوج کا کہنا ہے کہ کفرکلا میں ایک میزائل لانچر کو نشانہ بنایا، جنوبی لبنان کے شہریوں کو گھروں کو واپس نہ آنے کی وارننگ بھی دیدی ہے۔دوسری جانب حزب اللہ نے لبنانی حدود میں اسرائیلی کانوائے پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے، ترجمان کے مطابق صیہونی فوج کی 8 گاڑیوں کو دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنایا، دھماکوں میں اسرائیلی فوج کی 4 بکتربند گاڑیاں تباہ ہوئی۔دوسری جانب ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کی جانب سے ایرانی بحری جہاز پر فائرنگ اور اسے تحویل میں لینا جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس اقدام کا جواب جلد دیا جائے گا۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ نے جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف جنگ بندی کی خلاف ورزی کی بلکہ سمندری راہزنی کا ارتکاب بھی کیا۔دوسری جانب اسلام آباد مذاکرات کے پہلے مرحلے میں شریک ایرانی ممبر پارلیمنٹ سید محمود نبویان نے کہا ہےکہ امریکا کی جانب سے گزشتہ روز ایرانی جہاز پر حملے کے بعد مذاکرات کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔ادھرایران کے وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی اور پاکستان کے نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو ہوئی جس میں خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں اعلیٰ سفارتکاروں نے مختلف علاقائی امور پر مشاورت کی، خاص طور پر موجودہ جنگ بندی سے متعلق معاملات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں