کارکردگی کی دوڑ، ملتان سمیت پنجاب کے تھانوں میں منشیات و اسلحہ کے جعلی مقدمات

ملتان(شیخ نعیم سے)پنجاب بھر میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائیوں کے لیے آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے بعد جہاں پولیس کو جرائم کے خاتمے کے لیے متحرک ہونے کی ہدایات دی گئی ہیں وہیں بعض اضلاع خصوصاً ملتان سمیت صوبے کے مختلف شہروں کے تھانوں میں مقدمات کے اندراج اور پولیس کارکردگی کے حوالے سے کئی سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں۔ باخبر ذرائع اور شہری حلقوں کے مطابق جرائم کے خلاف کارروائیوں کے دباؤ کے باعث بعض پولیس افسران نے اپنی کارکردگی بہتر ظاہر کرنے اور اپنی سیٹیں برقرار رکھنے کے لیے ریکارڈ یافتہ ملزمان کے خلاف من مرضی کے مقدمات درج کرنے کا رجحان اختیار کر لیا ہے۔ذرائع کے مطابق منشیات کے خلاف کارروائیوں کے نام پر درج کیے جانے والے مقدمات میں ایک خاص طرز عمل سامنے آ رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ منشیات کے الزام میں گرفتار ہونے والے افراد کے خلاف درج کیے جانے والے متعدد مقدمات میں چرس یا افیون کی برآمدگی کی مقدار ایک کلو گرام یا اس سے زائد ظاہر کی جا رہی ہےجبکہ مشاہدے میں آیا ہے کہ ایسے کیسز میں برآمدگی کی کم مقدار جیسے پاؤ یا آدھا کلو گرام بہت کم درج کی جاتی ہے۔ پولیس کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹینس ایکٹ کے تحت دفعہ 9-C کے مقدمات کو سنگین نوعیت کا سمجھا جاتا ہے اور ایسے مقدمات پولیس افسران کی کارکردگی کے لیے اہم تصور کیے جاتے ہیںاسی لیے بعض اہلکاروں کی جانب سے مبینہ طور پر برآمدگی کی مقدار زیادہ ظاہر کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے تاکہ اعلیٰ حکام کے سامنے بہتر کارکردگی دکھائی جا سکے۔اسی طرح ذرائع کا کہنا ہے کہ منشیات کےمقدمات کے ساتھ ساتھ ناجائز اسلحہ کی برآمدگی کو بھی بعض مقامات پر پولیس کارکردگی کا لازمی حصہ بنا دیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تھانوں میں تعینات بعض اہلکاروں پر یہ دباؤ ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف منشیات کے مقدمات درج کریں بلکہ ناجائز اسلحہ کی برآمدگی کے کیسز بھی زیادہ سے زیادہ ظاہر کریں تاکہ جرائم کے خلاف کارروائیوں کے اعداد و شمار کو بہتر دکھایا جا سکے۔ اس صورتحال کے باعث بعض شہری حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کہیں اس عمل کے نتیجے میں بے گناہ افراد بھی مشکلات کا شکار نہ ہو جائیں۔قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اس صورتحال کا بروقت اور شفاف انداز میں جائزہ نہ لیا گیا تو اس سے نہ صرف بے گناہ شہری متاثر ہو سکتے ہیں بلکہ محکمہ پولیس کی ساکھ بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ شہریوں اور سماجی حلقوں کے مطابق بعض مقدمات میں ایسے افراد کو بھی ملوث دکھایا جاتا ہے جن کے خلاف بعد ازاں شواہد کمزور ثابت ہوتے ہیں، جس سے انصاف کے تقاضے متاثر ہونے کا اندیشہ پیدا ہوتا ہے۔متاثرہ شہریوں اور مختلف سماجی حلقوں نے آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ سنگین نوعیت کے مقدمات، خصوصاً منشیات اور ناجائز اسلحہ کے مقدمات کے اندراج اور مبینہ برآمدگیوں کے اصل حقائق جاننے کے لیے ایک مستقل بنیادوں پر خصوصی تحقیقاتی ٹیم قائم کی جائے۔ ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ ملتان سمیت صوبے کے مختلف اضلاع کے تھانوں میں تعینات بعض سکیورٹی افسران مبینہ طور پر اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے علاقے کے جرائم پیشہ عناصر سے روابط قائم کر کے مختلف معاملات میں مالی لین دین کے راستے ہموار کرنے میں مصروف ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض مقامات پر ایسے سکیورٹی افسران کا اثر و رسوخ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ وہ متعلقہ تھانوں کے ایس ایچ اوز سے بھی زیادہ طاقتور تصور کیے جانے لگے ہیں اور کئی معاملات میں عملی فیصلے انہی کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں