ملتان( وقائع نگار ) اساتذہ تنظیم کی پشت پناہی پر ہراسمنٹ کیس کے بدنام ملزم کا ڈپٹی رجسٹرار لیگل پر اس کے دفتر میں گھس کر تشدد۔ شرعی عدالت میں کیس نہ پیش کرنے کے لیے دباؤ، انکوائری کا حکم دے دیا گیا۔تفصیل کے مطابق زکریا یونیورسٹی ہراسمنٹ کیس کے مرکزی ملزم احسان قادر بھابھہ نے شریعت کورٹ میں کیس کو روکنے کے لیے ڈپٹی رجسٹرار لیگل کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ گزشتہ روز دوپہر کے وقت احسان بھابھہ ایڈمن بلاک آئے اور ڈپٹی رجسٹرار کو شرعی عدالت کے کیس کی فائل نہ دینے پر تشدد کیا اس سلسلے ڈپٹی رجسٹرار لیگل نے حکام بالا کو دی گئی درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ وہ اپنے دفتر میں سرکاری کام کے فرائض سر انجام دے رہا تھا کہ پروفیسر ڈاکٹر احسان قادر میرے دفتر میں تشریف لائے۔ اس وقت حافظ ساجد یعقوب ایڈمن آفیسر میرے پاس موجود تھا اور اس دوران مسٹر ثقلین بھی میرے کمرے میں آئے اور سلام کر کے چلے گئے ۔ بعد ازاں حافظ ساجد یعقوب بھی چلے گئے اور کمرے میں اور پروفیسر ڈاکٹر احسان قادرا کیلے رہ گئے ۔ ڈاکٹر احسان نے گفتگو شروع کی اور کہا کہ مجھےہراسمنٹ کے کیس سے بری کروائیں میرا کوئی قصور نہیں ہے۔ میں نے اس کو کہا کہ آپ کا کیس ٹرائل کورٹ میں ہے اور دوسرا جو ہائی کورٹ کا حکم آیا ہے اس کی منظوری کی فائل افسران بالا کے پاس زیر غور ہے ۔ جس پر ڈاکٹر احسان قادر غصے میں آگئے ۔ اور کہا کہ آپ ہائی کورٹ میں میرے خلاف رجسٹرار کے ساتھ کیوں پیش ہوئے اور شکایت کنندہ ( ڈاکٹر شازیہ افضل ) آپ کے پاس کیوں آتی ہے جس پر میں نے ان کو بتایا کہ یہ لیگل آفس ہے جہاں پر مدعی ملزم، گواہ وغیرہ سب آتے ہیں ۔ آپ بھی تو آئے روز میرے پاس آتے ہیں آپ کو پورا پورا پروٹوکول دیا جاتا ہے جس پر ڈاکٹر احسان قادر نے کہا کہ مجھے میرے کیس کی فائل دکھائیں میں نے کہا فائل میرے پاس نہیں ہے جس پر وہ شدید غصے میں آگئے میز پر پڑی ہوئی فائلوں کو ادھر ادھر پھینکنا شروع کر دیا میں نے ان کو منع کیا کہ یہ سرکاری فائلیں ہیں کل وفاقی آئینی عدالت اسلام آباد میں یونیورسٹی کے کیس سےمتعلق پیشی ہے ان کو خراب نہ کریں ۔اس نے میری کوئی بات بھی نہ سنی جس پر وہ سیخ پا ہو گئے اور مجھ پر حملہ کر دیا اور مجھے زخمی کیا، گالیاں دیتے ہوئے دفتر سے باہر نکلے ،شور و غل سن کر ملازمین باہر نکلے میں نے ان کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن وہاں سے بھاگ گیا میں نے فوری طور پر افسران بالا کو سارا وقوعہ بتایا۔ڈاکٹر احسان قادر نے کارسرکار میں مداخلت کی سرکاری فائلز اٹھائیں اور پھاڑنے کو کوشش کی جو کہ میں نے ناکام بنائی مجھ پر حملہ کر کے زخمی کیا۔ لہذا مہر بانی فرما کر اس کے خلاف کارسرکار میں مداخلت کرنے سرکاری ریکارڈ کو پھاڑنے کی کوشش کرنے اور مجھ پر حملہ کر کے زخمی کرنے کے زمرے میں اس کے خلاف کاروائی کی جائے دوسری جانب افیسر ایسوسی ایشن نے وقوع کی مزمت کرتے ہوئے ڈاکٹر احسان قادر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے صدر رانا جنگ شیر خلیل احمد کھور عمران شیخ شہزاد علی اور دیگر نے کہا کہ پہلے بھی اساتذہ کی طرف ناروا سلوک کی شکایت سامنے آئی ہیں مگر اب حالات مزید خراب ہو گئے ہیں جب تک ڈاکٹر احسان بھابھہ کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی نہیں ہوگی آفیسرز قلم چھوڑ ہڑتال کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ در یں اثنا وائس چانسلرنے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دے دیا ۔شعبہ میتھ کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران جاوید کو تین روز میں انکوائری کرکے رپورٹ جمع کرنے کی ہدایت کردی جس کا رجسٹرار نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔






